خیبرپختونخوا اراکین کا اسمبلی کی بجائے عمران خان اسٹیڈیم میں اجلاس

خیبرپختونخوا اراکین کا اسمبلی کی بجائے عمران خان اسٹیڈیم میں اجلاس

فوٹو : سوشل میڈیا

پشاور: خیبرپختونخوا اراکین کا اسمبلی کی بجائے عمران خان اسٹیڈیم میں اجلاس منعقدہ ہوا،خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے مقدمات، ملاقات پر پابندی، طبی سہولیات، افغانستان کی صورت حال اور مہنگائی کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کر لی گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور میں ہونے والا اجلاس اسپیکر بابر سواتی کی صدارت میں منعقد ہوا، تاہم اجلاس تین گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اس دوران پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد کارروائی دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم پہنچی، جس پر سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر دروازے بند کر دیے گئے۔

ایوان نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے خلاف مقدمات کی فوری سماعت سے متعلق قرارداد اکثریت سے منظور کی۔ قرارداد میں عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام مقدمات کی سماعت میرٹ پر شروع کی جائے، کیونکہ تاخیر کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ متن میں کہا گیا کہ مقدمات روزانہ کی بنیاد پر سنے جائیں اور جلد فیصلہ کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، جبکہ سیاسی استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے بھی اس عمل کو ضروری قرار دیا گیا۔ رائے شماری کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

اسی طرح ایوان نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سے ملاقات پر عائد پابندی اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف بھی قرارداد منظور کی۔ حکومتی رکن افتخار اللہ جان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ دونوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں، قید تنہائی سے نکال کر اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ یہ قرارداد بھی اکثریت سے منظور کر لی گئی۔

اجلاس میں افغانستان کی صورت حال پر بھی قرارداد منظور کی گئی، جسے حکومتی رکن طفیل انجم نے پیش کیا۔ قرارداد میں زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کیے جائیں تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور دوطرفہ تجارت کو بحال کیا جا سکے۔ متن کے مطابق کشیدگی کے باعث تقریباً 2 ارب ڈالر کی تجارت متاثر ہو رہی ہے، جس کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ مزید کہا گیا کہ کشیدگی سے خیبرپختونخوا صوبہ براہ راست متاثر ہو رہا ہے، جبکہ افغانستان سے مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔

مہنگائی کے خلاف بھی ایوان میں قرارداد پیش کی گئی جسے کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔ حکومتی رکن ڈاکٹر امجد علی نے قرارداد میں مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت پیٹرول کی قیمتوں پر کنٹرول میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے غریب آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور عالمی مارکیٹ کے مطابق قیمتوں میں کمی کی جائے۔

بحث کے دوران احمد کنڈی نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے اور عوام پر بھاری بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی حکومت اس معاملے پر مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی سطح پر پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام سے بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر ایوان نے تمام پیش کردہ قراردادیں منظور کر لیں، جن میں سیاسی، معاشی اور علاقائی امور پر اہم نکات شامل تھے۔

Comments are closed.