آبنائے ہرمز کی انٹرنیٹ کیبلز کا نقشہ جاری، عالمی ڈیجیٹل نظام کو ممکنہ خطرہ
فوٹو : سوشل میڈیا
تہران: ایران کا آبنائے ہرمز کی انٹرنیٹ کیبلز کا نقشہ جاری، عالمی ڈیجیٹل نظام کو ممکنہ خطرہ سے خبردارکیا گیاہے، ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی آبدوز انٹرنیٹ کیبلز کا تفصیلی نقشہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے اور بحری ناکہ بندی جاری رہنے کی صورت میں یہ کیبلز متاثر ہو سکتی ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق جاری کیے گئے نقشے میں کم از کم سات بڑی زیرِ سمندر کیبلز کی نشاندہی کی گئی ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کیبلز عالمی انٹرنیٹ نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، جن کے ذریعے دنیا کے 97 فیصد سے زائد ڈیٹا ٹریفک کی ترسیل ہوتی ہے۔ ای کامرس، کلاؤڈ سروسز، بینکاری لین دین اور عالمی مواصلاتی نظام کا انحصار بھی انہی رابطہ کیبلز پر ہے، جبکہ خلیجی ممالک کی ڈیجیٹل معیشت کو ان کا بنیادی سہارا قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی تجزیے میں آبنائے ہرمز کو خلیجی خطے کی ڈیجیٹل معیشت کا سب سے کمزور نقطہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ تصادم یا کشیدگی کی صورت میں یہ عالمی رابطہ نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بحرِ احمر میں جاری تنازعات کے دوران بھی زیرِ سمندر کیبلز کو نقصان پہنچنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس کے باعث انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال بگڑتی ہے تو نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی معیشت، تجارت، مالیاتی نظام اور حتیٰ کہ حکومتی و عسکری رابطے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کار اس اقدام کو ایک جانب ممکنہ خطرے کی نشاندہی جبکہ دوسری جانب سفارتی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد عالمی برادری کو خطے کی حساسیت کا احساس دلانا ہو سکتا ہے۔
Comments are closed.