ایران کو غیر فوجی مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی، امریکی صدر
فوٹو : فائل
واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو غیر فوجی مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی، امریکی صدر کا کہنا ہے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کے مطابق نئے معاہدے کے تحت ایران کو صرف کم سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی، جسے کسی بھی صورت فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ایران کو صرف غیر فوجی مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور یہ پابندی مستقل نوعیت کی ہوگی۔
اس دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حد سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد افزودگی کے برابر ہوگی تو انہوں نے واضح شرح بتانے کے بجائے کہا کہ ایران صرف پرامن مقاصد کے لیے افزودگی کر سکے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی حکومت مستقبل میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرتی ہے یا انہیں قتل کرتی ہے تو ایسی صورت میں ایران کو مکمل پابندیوں میں نرمی حاصل نہیں ہو سکے گی۔ تاہم ذرائع کے مطابق یہ شرط مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ حصہ نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو ایک بہت مشکل آدمی ہیں اور انہیں امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے، اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا اور معاہدے کے حتمی مراحل میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی میزائل اور فضائی حملوں نے تہران پر دباؤ بڑھایا اور اسی وجہ سے ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے، ایران مزید حملوں سے بچنا چاہتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہوئی۔
امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
Comments are closed.