تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام نے دہشت گردوں کو د ین اسلام سے خارج قرار دیاہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

45 / 100

فائل:فوٹو

اسلام آباد:اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام نے متفقہ رائے دیتے ہوئے دہشت گردوں کو د ین اسلام سے خارج اور خودکش بمباری کو شریعت کی روشنی میں حرام قراردیاہے ۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک میں اتحاد، رواداری اور ہم آہنگی کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق پیغامِ پاکستان، قرآنِ پاک کے احکامات اور سنتِ رسولﷺ آئین ِ پاکستان کے مطابق متفقہ دستاویز ہیں، یہ دستاویز ریاستی اداروں، یونیورسٹیز اور تمام مکاتبِ فکر کے تعاون سے تیار کی گئی ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ پیغامِ پاکستان پر 1800 علمائے دین نے دستخط کیے ہیں، حکومت، فوج، سیکیورٹی اداروں کو غیر مسلم قرار دینا اسلام کی تعلیمات کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ حکومت، فوج، سیکیورٹی اداروں کے خلاف کارروائی کرنا اسلام کی تعلیمات کے منافی قرار دیا گیا ہے، یہ فعل بغاوت کے مترادف اور اسلامی احکام و شریعت کے مطابق ’حرام‘ ہے، تمام علمائے کرام مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ قوم افواجِ پاکستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کا اعلان کرتی ہے، علمائے کرام نے خودکش بمباری کو شریعت کی روشنی میں ’حرام‘ قرار دیا ہے۔

علمائے کرام نے ریاستی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کریں، تمام تعلیمی اداروں کا مشن طلباء کی تعلیم اور تربیت ہے، اگر کوئی ادارہ عسکریت پسندی، نفرت، انتہا پسندی اور تشدد میں ملوث ہو تو ریاست کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق ہر مسلک اور مکتبہ فکر کو تبلیغ کی آزادی حاصل ہے، کسی فرد، مسلک یا ادارے کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی ممانعت ہے، کوئی عالمِ دین کسی کو غیر مومن قرار نہیں دے گا، یہ عدالت کا دائرہ اختیار ہے۔

ضابطہ اخلاق میں مزید کہاگیا ہے کہ پاکستان کی سر زمین دہشت گردی کے فروغ، تربیتی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی، پاکستان کی سر زمین دنیا کے دیگر ممالک میں کسی مذموم کارروائی کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

علماء کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسانی اقدار اور اسلامی اخوت پر مبنی اسلامی اداروں کا قیام وقت کی ضرورت ہے، اقلیتی برادریوں کو بھی مسلمانوں کی طرح حقوق حاصل ہیں، اقلیتوں کو اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق عبادت کی آزادی حاصل ہے، لاوٴڈ اسپیکر، ٹی وی چینلز وغیرہ پر نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

About The Author

Comments are closed.