فوج کو سرحدوں کی بجائےملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، فضل الرحمان
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے حکومتی پالیسی ، طاقت کے استعمال اور کشمیریوں سے متعلق وزیر دفاع خواجہ آصف کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو آڑھے ہاتھوں لیا ہے.
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ فوج کو سرحدوں کی بجائےملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، فضل الرحمان نے کہا فوج کوسرحدوں پر ہونا چاہیئے، انھوں نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ جب ہم کنٹینر پر تھے تو کیا ہم تنقید نہیں کرتے تھے؟
امیر جے یو آئی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف بتائیں گے کہ جب ہم کنٹینر پر ہوتے تھے تو کیا شہباز شریف آرمی چیف اور فوج کا نام نہیں لیتے تھے؟ محکمہ زراعت نہیں کہتے تھے؟ کیا ان کے ساتھ اسٹیج سے فوج کو محکمہ زراعت نہیں کہا جاتا تھا؟
انہوں نے کہا کہ ہم گونگے نہیں ہیں اور گونگے شیطان نہیں بنیں گے، ہم خاموش نہیں رہیں گے ہم بات کریں گے۔ اگر ادارے ٹیکس کے پیسے لیکر اس کا سیاسی استعمال کریں گے تو پھر اس ایوان میں جواب دیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی فوج کو سرحدوں میں ہونا چاہیے لیکن اسے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، ہم اسٹیبلشمنٹ اور تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں، اگر وہ انتخابات میں نتائج تبدیل کرتے ہیں تو پھر ہم جواب دیں گے، اگر وہ سیاست کریں گے تو ہم سیاست میں جواب دیں گے۔
مولانا کا کہنا ہے کہ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ انہوں نے مظفرآباد کی طرف کل کا مارچ مؤخر کیا ہے، میں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے خط کا ویڈیو جواب دیا ہے اور حکومت کو بھی آگاہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی طرف سے تقریروں کی بنیاد پر ایکشن لیا جانا کیسے درست ردعمل ہے؟ کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے اور آج ہم کیا کر رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خواجہ آصف نے جو باتیں کی ہیں وہ ردعمل بطور وزیر دفاع نہیں کرنی چاہیئے تھیں، آپ نے لڑائی خواجہ آصف اور صلح اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھی ہے۔ عالمی سطح پر عالمی امن سے حکومت نیک نامی کما رہی ہے تو پاکستان میں نیک نامی گنوا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف جیسے بیانات اشتعال کو بڑھائیں گے، اپوزیشن کو مجبور نہ کریں، ہم نے چارسدہ میں لاکھوں کا اجتماع کیا، حکومتی پارٹی ایسے جلسے کرکے دکھا دے۔
Comments are closed.