انڈین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی، طلبہ کے ملک گیر احتجاج پر مودی حکومت کو بڑا دھچکا

فوٹو : سوشل میڈیا 

نیو دہلی: بھارت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے صدرِ جمہوریہ نے وزیراعظم نریندر مودی کے مشورے پر فوری طور پر منظور کر لیا۔ استعفے کے بعد کابینہ کے سینئر وزیر پرہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی قلمدان سونپ دیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک بھر میں امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، NEET امتحان کے پیپر لیک تنازع اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر طلبہ کی جانب سے کئی ہفتوں سے احتجاج جاری تھا۔

نئی دہلی کے جنتر منتر سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں طلبہ اور نوجوان مظاہروں میں شریک رہے، جہاں متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم فائرنگ کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔ 

مظاہرین کا مؤقف تھا کہ قومی سطح کے امتحانات میں بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور حکومت شفاف احتساب اور مؤثر اصلاحات میں ناکام رہی ہے۔

اپنے استعفے میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ وہ نوجوانوں کی امنگوں، قومی مفاد اور ملک کے اتحاد کو مقدم رکھتے ہوئے عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ صورتحال سے "ملک دشمن عناصر” فائدہ اٹھائیں یا طلبہ کا مستقبل مزید متاثر ہو۔ سابق وزیر تعلیم نے وزیراعظم نریندر مودی کے اعتماد، رہنمائی اور کابینہ کے ساتھیوں کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔ 

اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ استعفیٰ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکا ہے، کیونکہ مسلسل عوامی دباؤ اور طلبہ تحریک کے نتیجے میں حکومت کو پہلی مرتبہ ایک مرکزی وزیر کا استعفیٰ قبول کرنا پڑا۔

اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس پیش رفت کو طلبہ کی کامیابی اور حکومتی جوابدہی کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے

انڈین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی، طلبہ کے ملک گیر احتجاج پر مودی حکومت کو بڑا دھچکا

Comments are closed.