حکومت سے مذاکرات ناکام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا دوبارہ لانگ مارچ کا اعلان

فوٹو : سوشل میڈیا

مظفرآباد: آزاد کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 26 جولائی سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق پہلے مرحلے میں لانگ مارچ میرپور سے راولاکوٹ کے علاقے دریک تک جائے گا، جبکہ 27 جولائی کو مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کی جائے گی۔

مزاکرات میں ناکامی کے بعد راولاکوٹ دھرنا کے سٹیج سے ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر نے نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا ،ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت کوشش کی کہ اس صورتحال سے بچیں لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی اس لئے اتوار سے پہلے میرپور سے راولاکوٹ کی جانب اور پھر 27 سے مظفرآباد مارچ ہو گا. 

 بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں میرپور سے تنظیم کے حامی لانگ مارچ کرتے ہوئے راولاکوٹ کے علاقے دریک پہنچیں گے، جہاں پہلے سے جاری دھرنے میں شریک کارکنوں سے مل کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کے مطابق 27 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز ہوگا۔

واضح رہے کہ 27 جولائی کو آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے مرحلہ وار انتخابات کا پہلا مرحلہ بھی منعقد ہو رہا ہے، جس میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوگی۔

عابد شاہین سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آیا لانگ مارچ کے ذریعے انتخابات کو متاثر کرنے یا ملتوی کروانے کے لیے ان کی تنظیم کسی سیاسی جماعت یا بااثر شخصیت کے ایجنڈے پر عمل کر رہی ہے، تو انہوں نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے حامیوں کی انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال مئی میں پاکستانی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران ان کی تنظیم انتخابات میں حصہ لینے پر آمادہ ہو گئی تھی، تاہم بعد میں ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ تنظیم انتخابی عمل کا حصہ نہ بن سکی۔

عابد شاہین نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے، جس کے باعث مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دریک کے مقام پر جاری دھرنے میں اس وقت خواتین اور بچے بھی موجود ہیں، تاہم 27 جولائی کو جب مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ شروع ہوگا تو خواتین اور بچوں کو اس مرحلے میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔

حکومتی نمائندے کے مطابق کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت آئندہ چھ ماہ تک تنظیم کے طرزِ عمل کا جائزہ لے گی، جس کے بعد اسے کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے یا برقرار رکھنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ تھا کہ اس کے کارکنوں کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں، تاہم حکومتی وفد نے واضح کیا کہ ایسے مقدمات واپس لینا حکومت کے اختیار میں نہیں، کیونکہ ان کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن کے مطابق کمیٹی کے نمائندوں کو یقین دہانی کرائی گئی کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں، ان کی عدالتوں تک رسائی کے معاملے میں حکومت نرم رویہ اختیار کر سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم سے وابستہ جن افراد کو خدشۂ نقضِ امن کے تحت نظر بند کیا گیا ہے، ان کی مشروط رہائی اس صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرے۔

ادھر میرپور پولیس کے ڈی آئی جی کامران کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ ایف سی کے اہلکار بھی مختلف حساس مقامات پر تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔

دوسری جانب میرپور ڈویژن میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے پیش نظر انتخابی مہم آج رات بارہ بجے ختم ہو جائے گی، جس کے بعد ضابطۂ اخلاق کے مطابق کسی بھی قسم کی انتخابی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔

حکومت سے مذاکرات ناکام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا دوبارہ لانگ مارچ کا اعلان

Comments are closed.