ایران کو 60 دن کیلئے تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کا لائسنس مل گیا
فوٹو : سوشل میڈیا
واشنگٹن : ایران کو 60 دن کیلئے تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کا لائسنس مل گیا ، امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر اپنے بیان میں تصدیق کی، بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو عارضی لائسنس جاری کیا گیا ہے تاہم اس میں توسیع کا امکان موجود ہے.
امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری نتیجہ خیز مذاکرات کے سلسلے میں، ایران نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور کھلی راہداری اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو ایران میں داخلے کی اجازت دینے کے بعد یہ عارضی لائسنس جاری کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ایک اجازت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کی اجازت ہوگی۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان گذشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت، امریکہ نے ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کے لیے چھوٹ دینے پر اتفاق کیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے اجازت نامے میں انشورنس، بینکنگ خدمات اور نقل و حمل کے لین دین کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
جاری کر دہ لائسنس میں خام تیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات اور ایران سے نکلنے والی پیٹرولیم مصنوعات کی امریکہ میں درآمد بھی شامل ہے۔
دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایکس پر لکھا تھا کہ ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں معطل کر دی گئی ہیں، بحری ناکہ بندی ختم ہو گئی ہے اور کچھ منجمد اثاثے بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ فریم ورک کے حصے کے طور پر امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت کے لیے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کیا ہے۔
کہ ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کا معاملہ مفاہمتی یادداشت کے نکتہ سات میں تھا
اس میں درج تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف تمام معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔
دستاویز میں کہا گیا تھا کہ اس حوالے سے شیڈول پر حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر اتفاق کیا جائے گا لیکن دونوں فریق اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آئندہ مذاکرات میں اس معاملے کو ‘فوری طور پر’ حل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایران ان پابندیوں سے شدید متاثر ہوا ہے اور امریکہ کی ایک مہم ‘آپریشن اکنامک فیوری’ کا مقصد تہران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنا رہا ہے۔
Comments are closed.