جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل کے فضائی حملے جاری
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد: لبنان میں جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں اورلبنان کے جنوبی علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں کی شدت حالیہ عرصے میں سب سے زیادہ رہی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ بمباری جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ہاتھوں چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ’حزب اللہ کے ٹھکانوں‘ پر 150 سے زیادہ حملے کیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں امن کے حالیہ وعدے اکثر مزید جنگ پر منتج ہوئے ہیں،اب ایک نئی جنگ بندی نافذ ہے لیکن کوئی پائیدار امن معاہدہ تاحال دور دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ سرحد کے ساتھ ایک ایسا سکیورٹی زون قائم کرنا چاہتا ہے جہاں حزب اللہ کی موجودگی نہ ہو۔
دوسری جانب حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل اس معاہدے کا احترام کرے گا تو تب ہی وہ بھی اس پر عمل کرے گی.
اس سے قبل اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا ، جس کے بعد فریقین کے درمیان جاری گولیوں اور گولہ باری کی گن گرج تھم گئی تھی اور جمعہ کی شام مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے نافذ العمل ہوئی ۔
اس حوالے سے اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ امریکا اور قطر کی ثالثی سے طے پایا جس میں امریکا نے اسرائیل سے جبکہ قطر نے ایران سے بات چیت کی۔
ایک اسرائیلی ذریعے نے عبرانی میڈیا کو تصدیق کی کہ جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے بفر زون میں موجود رہے گی۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے کوئی حملہ کیا گیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔
دوسری طرف ایران میں لوگوں نے اس جنگ بندی کا خیرمقدم کیا گیا ہے، ایرانی شہریوں امریکہ کے بعد حزب اللہ پر حملے رکنے کو بڑی پیش رفت قرار دیا ہے.
Comments are closed.