پاکستان، ایران اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے پر متفق، تجارت کا ہدف 10 ارب ڈالر مقرر

پاکستان، ایران اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے پر متفق، تجارت کا ہدف 10 ارب ڈالر مقرر

فوٹو : فائل

اسلام آباد: پاکستان، ایران اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے پر متفق، تجارت کا ہدف 10 ارب ڈالر مقرر کیا ہے پاکستان اور ایران نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، سرحدی تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات، سرمایہ کاری، تجارتی روابط اور سرحدی تجارت کے مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے ایرانی سفیر کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان، ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سنجیدہ ہے اور باہمی اقتصادی روابط کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے ساتھ مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔

اعلامیہ  کے مطابق ایران نے پاکستان کو اپنی سرزمین کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی فراہم کرنے کی پیشکش کی، جسے علاقائی تجارت اور رابطوں کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے مشترکہ اقتصادی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

فریقین نے پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت کو وسعت دینے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ روزانہ سرحد عبور کرنے والے تجارتی ٹرکوں کی تعداد 2 ہزار تک بڑھانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا تاکہ تجارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جا سکے۔

ملاقات میں دونوں ممالک نے رمدان۔گبد اسپیشل اکنامک زون کو جلد فعال بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ اعلامیے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی روابط، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

اعلامیہ  میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریفکی قیادت کو بھی سراہا گیا، جبکہ دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں کو مزید وسعت دے کر باہمی اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔

Comments are closed.