ایران نے امریکہ کی طرف سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے تصدیق ، پھر کیا ہوا؟
فوٹو : فائل
اسلام آباد: ایران نے امریکہ کی طرف سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے تصدیق ، پھر کیا ہوا؟ سوال پیدا ہوتا ہے لیکن جواب یہ ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے تص9کردی گئی ہے۔ جس کے بعد لاکھوں بیرل خام تیل لے کر ایرانی ٹینکرز سمندر میں روانہ ہو چکے ہیں۔
اس حوالے سے ایران کے نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے اپنے ایک بیان میں بحری محاصرہ ختم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بٹھایا گیا اپنا پہرہ مکمل طور پر ہٹا لیا ہے۔
بحری جہازوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے والے ادارے ’ٹینکرز ٹریکر‘ نے بھی بتایا ہے کہ تقریباً بیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل سے لدا ہوا ایک بہت بڑا دیو ہیکل ٹینکر امریکی ممنوعہ بحری لائن کو کامیابی سے پار کر چکا ہے.
ایران کے درجنوں دیگر بحری جہاز بھی اب بندرگاہوں سے نکل کر اس علاقے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق پچھلے دو مہینوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تقریباً پچاس لاکھ بیرل خام تیل لے کر کم از کم تین ایرانی ٹینکرز آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے محاصرے سے باہر نکلے ہیں۔
سمندری ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’کے پی ایل ای آر‘ کے مطابق، ڈیونا اور ہیرو ٹو نامی دو بڑے ٹینکرز، جو ایرانی قومی کمپنی کی ملکیت ہیں اور جن پر امریکی پابندیاں بھی لگی ہوئی ہیں، امریکی بحریہ کے گھیرے کو توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
ان دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر اڑتیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لدا ہوا ہے، جبکہ ایک تیسرا جہاز بھی دس لاکھ بیرل تیل لے کر بدھ کے دن اس محاصرے کی لائن سے باہر نکل آیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں نے عالمی تیل کی تجارت میں نئی امید ضرور پیدا کی ہے، تاہم سمندری تجارت سے وابستہ حلقے اس پیش رفت کو ابھی
حتمی کامیابی تصور کرنے کے لیے تیار نہیں۔
مجوزہ معاہدے کے مطابق امریکا ایران کو تیل اور دیگر ایندھن کی فروخت کی اجازت دے سکتا ہے، جبکہ اس کے بدلے ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے اور اس پر مکمل عمل درآمد کی ضمانت دے گا۔
اس ممکنہ پیش رفت کے باوجود سمندری تجارت سے وابستہ کاروباری افراد اور جہاز مالکان جشن منانے کے بجائے اب بھی حیرت، اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک معاہدہ باضابطہ طور پر طے نہیں پاتا اور خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال واضح طور پر بہتر نہیں ہوتی، اس وقت تک حالات کو معمول پر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بحری تجارت کے معتبر تجزیاتی ادارے Lloyd’s List Intelligence کے مطابق عالمی شپنگ سیکٹر اس خبر کو خوش آئند ضرور سمجھ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ شدید احتیاط بھی برت رہا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی اور جنگی خدشات نے شپنگ انڈسٹری کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ صرف معاہدے کی خبروں سے اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکتا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی مہینوں کے دوران جہازوں کے مالکان کو بڑھتے ہوئے فریٹ ریٹس، جنگی خطرات اور انشورنس کی بھاری اضافی لاگت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی وجہ سے بعض جہاز مالکان نے یہ توقع کرتے ہوئے کہ ایران کی تیل برآمدات میں اضافہ ہوگا اور خلیجی تجارت دوبارہ تیز ہوگی، اپنے آئل ٹینکرز اور دیگر بحری جہاز خلیج کی بندرگاہوں کی جانب بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔
تاہم زیادہ تر شپنگ کمپنیاں اب بھی محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں اور کسی بڑے فیصلے سے گریز کر رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک زمینی حقائق واضح نہیں ہوتے، اس وقت تک بحری آپریشنز میں بڑے پیمانے پر تبدیلی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
Comments are closed.