وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کے لیے262 ارب روپے مختص کیے ہیں، وزیر خزانہ

فوٹو : فائل 

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری میں تمام معاشی شعبوں اور اسٹیک ہولڈرز کو مدنظر رکھا گیا ہے اور حکومت نے کوشش کی ہے کہ ایک کاروبار دوست اور ترقی پسند بجٹ پیش کیا جائے۔

وفاقی وزیر اطلاعات، وزیر مملکت برائے خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ موجود تھے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر برآمدی شعبے کے لیے سپر ٹیکس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ اور صنعتوں کو مزید سہولت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو بھی نمایاں ریلیف دیا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق سب سے کم ٹیکس سلیب پر عائد 5 فیصد انکم ٹیکس کم کر کے 1 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ 15 فیصد ٹیکس کی شرح کو گھٹا کر 13 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے لاکھوں تنخواہ دار افراد کو مالی سہولت حاصل ہوگی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اور کاروباری حلقوں کی جانب سے بجٹ پر مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے نجی شعبے کی ضروریات کو مدنظر رکھا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کے لیے262 ارب روپے مختص کیے ہیں، وزیر خزانہ نے کہا  جن میں سے 125 ارب روپے زرعی شعبے کے قرضوں کے لیے مخصوص ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار بڑھانے اور جدید کاشتکاری کے فروغ کے لیے جدید زرعی مشینری ناگزیر ہے۔

وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ جدید زرعی مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کو صفر کر دیا گیا ہے تاکہ کسان جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکیں اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ بجٹ ملک کو معاشی استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Comments are closed.