امریکہ۔ایران امن معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگئیں

عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں پہلے ہی اصافہ ہو چکا

فوٹو : فائل 

اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی پیش رفت نے عالمی تیل مارکیٹ میں بڑی تبدیلی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح تک گر گئی ہیں۔

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 3.05 ڈالر یا 3.4 فیصد کمی کے بعد 87.33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو مارچ کے اوائل کے بعد اس کی کم ترین سطح تصور کی جا رہی ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 2.83 ڈالر یا 3.2 فیصد کمی کے بعد 84.88 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جو اپریل کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ نمایاں کمی امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری اور ممکنہ امن معاہدے کی خبروں کا نتیجہ ہے۔ سرمایہ کاری فرم "اگین کیپیٹل” کے شراکت دار جان کیلڈف کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں مندی کی بنیادی وجہ ایرانی حکام کے وہ اشارے ہیں جن میں امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت طے پانے کے قریب ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلسل اور مؤثر سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے متفقہ اور حتمی متن پر اتفاق ہو چکا ہے اور اب اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور تعلقات میں بہتری کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ ہونے کے قریب ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے بعد عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کو بھی مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی فراہمی میں اضافہ ہوگا، جس سے خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے اور توانائی کی عالمی منڈی میں استحکام پیدا ہونے کا امکان ہے۔

امریکہ۔ایران امن معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگئیں

Comments are closed.