ٹرمپ نے مجوزہ جنگ بندی شرائط سخت کر دیں ، ترمیم شدہ مسودہ ایران کو ارسال

فوٹو : اے آئی 

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ جنگ بندی شرائط سخت کر دیں ، ترمیم شدہ مسودہ ایران کو ارسال کر دیا گیا ہے، تبدیلی کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ امن فریم ورک تہران کو بھیجا گیا ہے.

نئے مسودہ میں پہلے کے مقابلے میں مزید سخت شرائط شامل کی گئی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم بعض اہم نکات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

اس حوالے سے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کے متن میں بعض ترامیم کیں اور اسے دوبارہ ایرانی قیادت کے غور و خوض کے لیے بھیج دیا۔ رپورٹ میں ان تبدیلیوں کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان شقوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن کے تحت ایرانی اثاثوں کو منجمد حالت سے نکالنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ وہی معاملہ ہے جس پر ٹرمپ ماضی میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے 2015 کے جوہری معاہدے پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر ردعمل میں تاخیر سے بھی نالاں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ مذاکرات براہِ راست نہیں بلکہ مختلف ثالثوں کے ذریعے جاری ہیں، جن میں پاکستانی حکام بھی شامل ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ تبدیل شدہ تجاویز کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا اور اسے ایسے فریم ورک کو قبول کرنے پر آمادہ کرنا ہے جو پہلے ہی ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری کے لیے پیش کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی اعلیٰ قیادت کے ساتھ رابطے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس کے باعث اگر دستاویز میں مزید تبدیلیاں کی گئیں تو معاہدے میں مزید تاخیر کا امکان بھی موجود ہے۔ اس دستاویز کو مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) قرار دیا گیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق امور، مذاکرات کے آئندہ مراحل میں زیرِ بحث آئیں گے۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس نے دو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی توقع رکھتے ہیں کہ معاہدہ جلد حتمی شکل اختیار کر لے گا، تاہم وہ بعض اہم معاملات، بالخصوص ایران کے جوہری مواد سے متعلق نکات پر مزید مضبوط اور سخت ضمانتیں چاہتے ہیں۔

ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ کی تازہ ترامیم کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان ایک اور دور کے پیغامات اور تبادلۂ خیال کا آغاز ہو گیا ہے، جو کئی روز تک جاری رہ سکتا ہے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایران کو جواب دینے میں تقریباً تین دن لگ سکتے ہیں۔ عہدیدار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ لفظی طور پر غاروں میں موجود ہیں اور ای میل استعمال نہیں کر رہے۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ معاہدہ ضرور ہوگا، البتہ یہ کتنی جلدی ہوگا، یہ دیکھنا باقی ہے۔ ہم انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ صدر کو وہ سب کچھ مل سکے جس کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ ایک ہفتہ بھی لے سکتا ہے.

Comments are closed.