جنگ بندی کے دوران امریکا کے ایران پر نئے حملے، ڈرون اور میزائل تنصیبات نشانہ بن گئیں

فوٹو : فائل 

اسلام آباد: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے باوجود امریکہ نے جنوبی ایران میں نئے فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں ایرانی ڈرون لانچنگ تنصیبات، میزائل مراکز اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے گئے۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی افواج کے دفاع کے لیے کی گئیں تاکہ ایرانی فوج کی جانب سے ممکنہ خطرات کو روکا جا سکے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق امریکی فوج جنگ بندی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی فورسز کے دفاع کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

ادھر ایرانی شہر بندر عباس میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد مقامی حکام نے تحقیقات شروع کر دیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ صورتحال قابو میں ہے اور عوام کے لیے تشویش کی کوئی بات نہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کا مرکز بندر عباس کے قریب واقع علاقے تھے۔ بندر عباس ایران کا اہم ساحلی شہر ہے جہاں آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی بحریہ کے اہم اڈے بھی موجود ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم تنازع کے مکمل خاتمے کے لیے کسی فوری معاہدے کی توقع نہیں۔

جنگ بندی کے دوران امریکا کے ایران پر نئے حملے، ڈرون اور میزائل تنصیبات نشانہ بن گئیں

Comments are closed.