امریکہ سفارتکاری کرے یا جنگ دونوں کےلئے تیارہیں، تجاویز مسترد ہونےپر ایران کا ردعمل

امریکہ سفارتکاری کرے یا جنگ دونوں کےلئے تیارہیں، تجاویز مسترد ہونےپر ایران کا ردعمل

فوٹو : فائل

اسلام آباد: ایران کا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایرانی جواب مسترد ہونے پرردعمل سامنے آگیا ہے جس میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خطے کی موجودہ صورتحال اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے کے بعد ایک اہم پریس بریفنگ دی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ضرورت پڑنے پر مقابلہ بھی کرے گا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جب بھی ہمیں لڑنے پر مجبور کیا جائے گا، ہم لڑیں گے اور جہاں کہیں بھی سفارت کاری کی گنجائش نظر آئے گی، ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سفارت کاری کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور ہمارا ہر فیصلہ قومی مفادات کی بنیاد پر ہوگا کیونکہ ایران نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات کی وجہ سے علاقے کا امن و استحکام خطرے میں پڑ گیا ہےانھوں نے کہا ہے اامریکہ سفارتکاری کرے یا جنگ دونوں کےلئے تیارہیں، تجاویز مسترد ہونےپر ایران کا ردعمل واضچ ہے۔

امریکی مطالبات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب بھی غیر معقول مطالبات کر رہا ہے، جبکہ ایران نے گزشتہ روز پاکستان کے ذریعے ٹرمپ کی تجویز پر جو جواب بھیجا تھا وہ بالکل بھی غیر منصفانہ نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی سلامتی کی بحالی کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو بڑھانا ضروری ہے،مصر کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں ایرانی ڈرونز گرانے کی خبروں پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور مصر کے تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہمارے لیے اصل تشویش خطے کی سیکیورٹی ہے اور کوئی بھی ایسی مداخلت جو استحکام کو نقصان پہنچائے وہ ناقابلِ قبول ہے، چاہے وہ کسی بھی ملک یا فریق کی جانب سے کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقائی امن کو بیرونی مداخلت کے بجائے مقامی ممالک کے تعاون سے ہی برقرار رکھا جانا چاہیے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایران کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کا جواب ایرانی قوم کے بنیادی حقوق پر زور دیتا ہے اور واشنگٹن کے ان مطالبات کو مسترد کرتا ہے جو ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش تھے۔

مذکورہ عہدیدار نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایران میں کوئی بھی شخص ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں لکھتا، مذاکراتی ٹیم صرف ایرانی قوم کے حقوق کو مدنظر رکھ کر کام کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ اس جواب سے ناخوش ہیں تو یہ حقیقت میں ایک اچھی بات ہے کیونکہ ٹرمپ حقیقت کو پسند نہیں کرتے اور اسی وجہ سے وہ ایران سے بار بار ہار رہے ہیں۔

Comments are closed.