بے اثر دھمکیوں کے بعد امریکی صدر کا پارہ نیچے آگیا،اب کوئی ڈیڈ لائن نہیں، ٹرمپ

ایران کیخلاف عسکری کارروائیاں ختم کرنے پرغور،ہرمزہم استعمال نہیں کرتے، ٹرمپ

فوٹو : فائل

اسلام آباد: بے اثر دھمکیوں کے بعد امریکی صدر کا پارہ نیچے آگیا،اب کوئی ڈیڈ لائن نہیں، ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی یا مزاکرات کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا موقف سامنے آیا ہے ،کہتے ہیں تین سے پانچ دن کی مہلت کی خبریں درست نہیں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویہ میں یہ تبدیلی فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں سامنے آئی ہے جس کے بعد اب اُمید کی جارہی ہے کہ اب مزاکرات شروع ہو جائیں گے کیونکہ امریکی صدر کی دھمکیوں کی وجہ سے ہی ایرانی قیادت مزاکرات سے گریز پا ہے.

ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران کہاایران کے ساتھ جنگ بندی یا مذاکرات سے متعلق مخصوص ٹائم فریم کی خبروں کو مسترد کر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی یا مذاکرات کیلیے وقت کی کوئی پابندی نہیں،

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مہلت سے متعلق گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی نئی تاریخ طے نہیں کی گئی اور نہ ہی جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ تاثر بھی رد کیا کہ وہ مڈٹرم انتخابات کے پیش نظر معاملہ جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی زیادہ دباؤ میں ڈال رہی ہے جس کے باعث حالات میں تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بمباری سے زیادہ ناکہ بندی سے خوفزدہ ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرا عظم شہباز شریف کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے اور جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔ تاہم انہوں نے امریکی فوج کو آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

Comments are closed.