متحدہ عرب امارات نے بھی امریکہ کودھمکی لگادی ، ڈالر کی جگہ چینی کرنسی کےلئے اقدامات
فوٹو : فائل
ابوظہبی/واشنگٹن: متحدہ عرب امارات نے امریکا سے باضابطہ طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں بحران شدت اختیار کرتا ہے تو اسے مالیاتی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک مؤثر حفاظتی نظام دیا جائے۔ یہ انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ جو کہ پیر کو شائع میں سامنے آیا ہے، جس میں خطے کی بدلتی معاشی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یو اے ای کو خدشہ لاحق ہے کہ ایران جنگ اس کی معیشت اور عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر اس کی حیثیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس ممکنہ بحران کے نتیجے میں نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے بلکہ وہ عالمی سرمایہ کار بھی بددل ہو سکتے ہیں جو اب تک امارات کو ایک مستحکم اور محفوظ سرمایہ کاری مرکز تصور کرتے رہے ہیں۔
اماراتی حکام نے امریکی حکام کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ اب تک یو اے ای اس تنازع کے بڑے معاشی اثرات سے محفوظ رہا ہے، تاہم مستقبل میں حالات بگڑنے کی صورت میں اسے مالیاتی سہارا درکار ہو سکتا ہے۔
یو اے ای کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بالاامہ نے تجویز پیش کی
امریکی حکام کے مطابق یو اے ای کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بالاامہ نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور فیڈرل ریزرو اور ٹریژری حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں کرنسی سوئپ لائن کے قیام کی تجویز پیش کی۔
اماراتی وفد نے امریکی حکام کو آگاہ کیا کہ اگر ملک میں ڈالر کی قلت پیدا ہوتی ہے تو وہ تیل کی فروخت اور دیگر بین الاقوامی مالی لین دین کے لیے چینی یوآن یا دیگر متبادل کرنسیوں کا سہارا لینے پر مجبور ہو سکتا ہے، جو عالمی مالیاتی نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اماراتی حکام نے امریکی قیادت کو یہ بھی باور کرایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے نے پورے خطے کو ایک وسیع اور ممکنہ طور پر تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے، جس کے اثرات فوری طور پر ختم ہوتے نظر نہیں آ رہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس نوعیت کے کرنسی سوئپ معاہدے عموماً فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کی منظوری سے فیڈرل ریزرو کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ تاہم یو اے ای کے ساتھ ایسا معاہدہ منظور کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ یہ سہولت عموماً ان ممالک کو فراہم کی جاتی ہے جنہیں کسی ایسے مالیاتی بحران کا سامنا ہو جو امریکی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہو۔
فیڈرل ریزرو کے پاس اس وقت برطانیہ، کینیڈا، جاپان، سوئٹزرلینڈ اور یورپی یونین کے مرکزی بینکوں کے ساتھ مستقل کرنسی سوئپ لائنز موجود ہیں، جبکہ 2020 کی عالمی وبا COVID-19 کے دوران میکسیکو، جنوبی کوریا اور برازیل سمیت کئی دیگر ممالک کو بھی عارضی بنیادوں پر یہ سہولت فراہم کی گئی تھی۔
طویل المدتی جنگ کی صورت میں تیل کی برآمدات میں رکاوٹ
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکا کے ساتھ یو اے ای کے مالیاتی روابط روایتی شراکت داروں کے مقابلے میں نسبتاً محدود ہیں، جس کے باعث اس درخواست کی منظوری ایک پیچیدہ عمل ہو سکتی ہے۔
یو اے ای کی کرنسی درہم پہلے ہی امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک (پیگڈ) ہے اور ملک کے پاس تقریباً 270 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو سرمایہ کے انخلاء، مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی S&P Global کے مطابق یو اے ای کے مضبوط مالیاتی ذخائر اور بیرونی پوزیشن اسے فوری بحران سے نمٹنے کی صلاحیت دیتے ہیں، لیکن طویل المدتی جنگ کی صورت میں تیل کی برآمدات میں رکاوٹ، سپلائی چین میں خلل اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان جیسے خطرات برقرار رہیں گے۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال یو اے ای کو امریکا کے مزید قریب لے آئی ہے، جبکہ اسے ایران کے ساتھ ماضی میں قائم کیے گئے سفارتی اور مالیاتی روابط سے دور کر رہی ہے تاکہ خطے میں استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
ادھر امریکی محکمہ خزانہ کے حکام نے حال ہی میں واشنگٹن میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک کے اجلاسوں کے موقع پر خلیجی ممالک کو انفراسٹرکچر اور بحالی کے منصوبوں پر مذاکرات کی دعوت دی، جسے ضرورت پڑنے پر امریکی تعاون کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ان عالمی مالیاتی اجلاسوں میں شریک وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں فوری معاشی بحالی کے امکانات محدود ہیں، اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے مرتب ہو سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے بھی امریکہ کودھمکی لگادی ، ڈالر کی جگہ چینی کرنسی کےلئے اقدامات
Comments are closed.