آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، ایرانی میڈیا
فوٹو : فائل
تہران: امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، ایرانی میڈیا کی یہ رپورٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کے بعد سامنے آئی ہے .
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے تین سخت شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو صرف عالمی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھولا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک قریبی ذریعے کے حوالے سے ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز پر طے پانے والے مبینہ معاہدے کی تفصیلات سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے کہ ایران نے مستقبل میں آبنائے ہرمز کو کبھی بند نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی کے عرصے میں آبنائے ہرمز کھولنے کے بیان کے بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیانات جاری کیے تھے، ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے وہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کبھی بند نہیں کرے گا۔
ٹرمپ کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی صدر کے ترجمان سید محمد مہدی طباطبائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان جاری کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے ایک حصے کو مشروط اور محدود پیمانے پر کھولنا خالصتاً ’ایرانی اقدام‘ ہے، جس کا مقصد مخالف فریق کے وعدوں کو آزمانا ہے۔
مہدی طباطبائی نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلانات کا مقصد ایرانی قوم سے ان عظیم کامیابیوں کا فخر چھیننا ہے جو انہوں نے اپنے ملک کے غیر متزلزل اور مضبوط دفاع کے ذریعے حاصل کی ہیں۔
ایرانی صدر کے ترجمان نے سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے اپنے وعدوں سے روگردانی کی تو انہیں اس کے انتہائی سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
رپورٹ میں باخبر ذریعے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے آغاز پر ایران نے یومیہ بنیاد پر مخصوص تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ایران نے اس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔
ایران کی پہلی شرط کے مطابق اس بحری راستے سے صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی جب کہ فوجی جہازوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ دشمن ملک کے جہازوں یا ایسے جہاز جن پر دشمن ممالک کا سامان لدا ہوگا، انہیں یہ راستہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
دوسری شرط کے مطابق تمام بحری جہاز ایران کے متعین کردہ راستے سے ہی گزرنے کے پابند ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے تیسری شرط کے تحت ان جہازوں کے پاسدارانِ انقلاب سے رابطے کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایران کے مطابق آبنائے ہرمز کا استعمال کرنے والے جہازوں کو ایرانی فورسز کے ساتھ مستقل رابطے میں رہنا ہوگا۔
تسنیم نیوز کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا تو اسے جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت پر دوبارہ پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
واضح رہے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق دیے گئے بیان میں واضح کیا تھا کہ یہ راستہ جنگ بندی کے عرصے تک ’تجارتی جہازوں‘ کے لیے کھولا گیا ہے اور ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن تجارتی جہازوں کے گزرنے کا روٹ بھی وضع کرچکی ہے۔
تاہم اس کے کچھ دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے کھل چکا ہے لیکن ایران پر امریکی بحریہ کی ناکہ بندی اس وقت تک پوری طاقت سے برقرار رہے گی جب تک امریکا کی ایران کے ساتھ ڈیل 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتی۔
ایرانی صدر کے ترجمان نے بھی ٹرمپ کے مستقبل میں آبنائے ہرمز کو بند نہ کرنے کی یقین دہائی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Comments are closed.