پی ٹی آئی آزاد کشمیر کا پارلیمانی بورڈ میں خواتین نمائندگی کم ہونے پراحتجاج
فوٹو : فائل
راولپنڈی: پی ٹی آئی آزاد کشمیر کا پارلیمانی بورڈ میں خواتین نمائندگی کم ہونے پراحتجاج ، تحریک انصاف کے رہنما سردار صداقت حیات اور دیگر رہنماؤں نے پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کو مسترد کر دیا۔
آزاد کشمیر میں 52 فیصد ووٹرز خواتین پر مشتمل ہیں، مگر پارلیمانی بورڈ میں خواتین کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ ان کے حلقے میں باہر سے لوگوں کو لا کر الیکشن لڑایا جا رہا ہے، جس پر شدید تحفظات ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل اسپورٹس و کلچرل ونگ سردار صداقت حیات اور دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کے لیے قائم پارلیمانی بورڈ عجلت میں تشکیل دیا گیا، جس میں نہ تو میرٹ کو مدنظر رکھا گیا اور نہ ہی پارٹی کے نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کو نمائندگی دی گئی۔
وہ خود پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے بانی ارکان میں شامل ہیں، تاہم انہیں 2016 اور 2021 کے انتخابات میں ایل اے 15 وسطی باغ سے ٹکٹ نہیں دیا گیا، جبکہ 2023 کے ضمنی انتخابات میں بھی انہیں اور دیگر کارکنوں کو نظرانداز کیا گیا۔
سردار صداقت حیات نے کہا کہ آزاد کشمیر میں 52 فیصد ووٹرز خواتین پر مشتمل ہیں، مگر پارلیمانی بورڈ میں خواتین کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ ان کے حلقے میں باہر سے لوگوں کو لا کر الیکشن لڑایا جا رہا ہے، جس پر شدید تحفظات ہیں۔
رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ پارلیمانی بورڈ کے سامنے پیش ہو کر اپنے تحفظات رکھیں گے اور آج ہی مرکزی قیادت سے ملاقات کر کے پارٹی پالیسی اور پارلیمانی بورڈ میں تبدیلی کا مطالبہ کریں گے۔
سینئر نائب صدر شہزاد خان نے کہا کہ تنظیم سازی میں حقیقی اور نظریاتی کارکنوں کو نظرانداز کیا گیا ہے، جس کے خلاف کارکنان احتجاج کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ پارٹی کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
Comments are closed.