واشنگٹن میں حساس فوجی تنصیب فورٹ لیسلی جے میک نیئر کے اوپر نامعلوم ڈرونز کی پروازیں

واشنگٹن میں حساس فوجی تنصیب فورٹ لیسلی جے میک نیئر کے اوپر نامعلوم ڈرونز کی پروازیں

فوٹو : فائل

واشنگٹن: امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں حساس فوجی تنصیب فورٹ لیسلی جے میک نیئر کے اوپر نامعلوم ڈرونز کی پروازیں ہوئی ہیں جس کے بعد سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جبکہ واقعے کے بعد متعدد فوجی اڈوں پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق حکام تاحال ان ڈرونز کے ماخذ کا تعین نہیں کر سکے۔ صورتحال سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران ایک ہی رات میں متعدد ڈرونز کی پروازیں دیکھی گئیں، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے فوری اقدامات اٹھائے اور وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا۔

رپورٹ کے مطابق یہ اڈہ نہایت حساس ہے جہاں مارکو روبیو اور پیٹ ہیگستھ کی رہائش گاہیں بھی موجود ہیں۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا کہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر ان شخصیات کی منتقلی پر غور کیا گیا، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر تفصیلات بتانے سے گریز کیا، جبکہ محکمہ خارجہ نے بھی اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

سیکیورٹی خدشات کے باعث امریکہ نے دنیا بھر میں اپنی سفارتی تنصیبات کے لیے ہنگامی سیکیورٹی جائزے کا حکم دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اسی دوران McGuire-Dix-Lakehurst Joint Base اور MacDill Air Force Base سمیت کئی فوجی اڈوں پر سیکیورٹی لیول "چارلی” تک بڑھا دیا گیا ہے، جو ممکنہ حملے کے خدشے کی نشاندہی کرتا ہے۔

مزید برآں فلوریڈا میں واقع میک ڈِل ایئر فورس بیس، جو امریکی سینٹرل کمانڈ کا مرکز ہے، میں بھی دو مرتبہ لاک ڈاؤن کی صورتحال پیدا ہوئی، جہاں ایک مشتبہ پیکج اور سیکیورٹی واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق فوجی تنصیبات پر سیکیورٹی پوزیشن کو مقامی خطرات کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے تاکہ اہلکاروں اور تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی اڈوں پر بڑھتے ہوئے حفاظتی اقدامات اور عالمی سیکیورٹی الرٹ اس خدشے کو ظاہر کرتے ہیں کہ ایران سے متعلق کشیدگی کے اثرات امریکی سرزمین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

Comments are closed.