ایران میں امریکہ اورموساد کے جاسوس گرفتار،ایک کو سزائے موت دے دی گئی

ایران میں امریکہ اورموساد کے جاسوس گرفتار،ایک کو سزائے موت دے دی گئی

فوٹو : سوشل میڈیا

تہران : ایران میں امریکہ اورموساد کے جاسوس گرفتار،ایک کو سزائے موت دے دی گئی ہے،ایران کی وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں بڑے سیکیورٹی آپریشن کے دوران مبینہ امریکی جاسوسوں کو گرفتار کرنےکا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے مبینہ تعلق پر ایک ایرانی شہری کو سزائے موت دی گئی ہے۔

اس حوالے سےایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزارتِ داخلہ نے ملک گیر آپریشن میں 111 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کا تعلق مبینہ طور پر ’بادشاہت پسند‘ گروہوں سے ہے۔

ایرانی وزارتِ داخلہ کے مطابق 26 صوبوں میں راتوں رات کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو شناخت کرکے گرفتار کیا گیا اور ان سے بڑی مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ادھرصوبہ ہمدان اور مغربی آذربائیجان سے چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر امریکا کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔

جاسوسوں سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور حساس تنصیبات سے متعلق معلومات دشمن کو فراہم کر رہے تھے اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ مل کر ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

دوسری طرف ایران کی عدلیہ نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے مبینہ ایجنٹ کوروش کیوانی کو سزائے موت دینے کی تصدیق کردی ہے۔ حکام کے مطابق کوروش کیوانی کو گزشتہ برس جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس تنظیم نے گرفتار کیا تھا۔

اس پر ملک کے حساس سیکیورٹی مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز اسرائیل کو فراہم کرنے کا الزام تھا۔ گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے ایک پیڈرا وین، موٹر سائیکل اور جدید جاسوسی آلات بھی برآمد ہوئے تھے۔

تحقیقات کے مطابق ملزم کو 2023 میں سویڈن میں ’بین‘ نامی موساد ایجنٹ نے بھرتی کیا تھا، جو فارسی زبان بول سکتا تھا۔ بعد ازاں کوروش کیوانی نے یورپ کے مختلف ممالک کا سفر کیا، جہاں اس نے اپنے ہینڈلر سے رابطے مضبوط کیے اور بڑی رقوم حاصل کیں۔

ملزم نے عدالتی بیان میں بتایا کہ وہ دو ہفتوں کے لیے تل ابیب گیا تھا، جہاں اسے ایران کے اہم مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی ہدایات دی گئیں۔ عدالت نے ملزم کے اعترافات، ای میلز اور دیگر شواہد، اور اس کے قبضے سے ملنے والے جدید جاسوسی آلات کی بنیاد پر اسے سزائے موت سنائی تھی۔

ذرائع کےمطابق جاسوسوں کے اس نیٹ ورک کو ایران کے مظاہروں کے دوران فراہم کردہ ایلون مسک کے انٹرنیٹ سروس سے بھی مدد مل رہی ہے جو کہ اس وقت بظاہر مظاہرین کورابطوں کے لئے فراہم کیا گیا تھا۔

Comments are closed.