چین کی ترقیاتی پالیسیوں پر عالمی توجہ، تنزانیہ کے قانون ساز کا اعتراف
فوٹو : فائل شہنوا
بیجنگ (سنہوا) تنزانیہ کے ایک قانون ساز نے کہا ہے کہ چین تنزانیہ کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے، اس لیے چین میں ہونے والی پیش رفت نہ صرف چینی عوام بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
بین الاقوامی توجہ اس وقت بیجنگ میں ہونے والے چین کی اعلیٰ مقننہ اور اعلیٰ سیاسی مشاورتی ادارے کے “دو اجلاسوں” پر مرکوز ہے، جہاں ایسی پالیسیوں پر غور کیا جا رہا ہے جو نئے پانچ سالہ منصوبے کے تحت چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی کی رفتار کا تعین کریں گی۔
تنزانیہ کی پارلیمنٹ کے رکن اور لوکل اتھارٹیز اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ ادو شیبو کا کہنا ہے کہ چین کی حکمرانی اور ترقی کا ماڈل ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک اہم مثال اور تحریک فراہم کرتا ہے۔
سنہوا نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں ادو شیبو نے کہا کہ چین تنزانیہ کا اہم شراکت دار ہے، اس لیے چین میں ہونے والی پیش رفت کا اثر نہ صرف چینی عوام بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیا جاتا ہے۔
انہوں نے چین کے پارلیمانی اجلاسوں کی عملی نوعیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اجلاسوں میں ہمیشہ ایسے حقیقی مسائل پر توجہ دی جاتی ہے جو عوامی زندگی سے براہ راست جڑے ہوتے ہیں، جیسے روزگار کے مواقع، اقتصادی ترقی، استحکام اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری۔
شیبو کے مطابق اس سال کے اجلاس خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ 2026 چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کے آغاز کا سال ہے۔ ان کے خیال میں چین کے سیاسی نظام نے ملک کی طویل المدتی سماجی و اقتصادی ترقی میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین مختصر انتخابی ادوار سے آگے بڑھ کر طویل المدتی منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق جب چین کی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، غربت میں کمی اور صنعتی پیش رفت کو دیکھا جائے تو پالیسیوں کے تسلسل اور مضبوط ہم آہنگی کے مثبت اثرات واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔
چین کے “پورے عمل کی عوامی جمہوریت” کے تصور پر بات کرتے ہوئے شیبو نے کہا کہ اس نظام کی اہم بات یہ ہے کہ جمہوریت کو مشاورت، عوامی شرکت اور سب سے بڑھ کر نتائج فراہم کرنے کے مسلسل عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نظام میں اس بات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے کہ پالیسیاں عوام کی فلاح و بہبود میں کس حد تک بہتری لاتی ہیں، جیسے بہتر انفراسٹرکچر، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور غربت میں کمی۔
ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ چین اپنے نظام کو ایسا ماڈل قرار دیتا ہے جو حکمرانی کو عوامی ضروریات اور طویل المدتی ترقی سے قریب سے جوڑتا ہے۔
شیبو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جمہوریت کو کسی ایک معیار پر نہیں پرکھا جانا چاہیے کیونکہ مختلف ممالک کے تاریخی پس منظر، ثقافت اور ترقی کے مراحل مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ہر ملک اپنی سیاسی راہ خود اختیار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے مغربی ممالک میں جمہوریت کا بنیادی مرکز بار بار انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات یہ سیاسی تقسیم، معاشرتی پولرائزیشن اور پالیسیوں میں عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتا ہے، جو طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کرتا ہے۔
اس کے برعکس چین کا نظام مشاورت، اتفاق رائے اور طویل المدتی منصوبہ بندی پر زور دیتا ہے، جس میں ترقیاتی نتائج کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق “چینی طرز کی جمہوریت” کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ قومی ترقی کے اہداف اور عوامی فلاح و بہبود سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
ادو شیبو نے چینی جدیدیت میں بھی گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ماڈل افریقہ اور دیگر ترقی پذیر خطوں کے لیے نہ صرف تحریک بلکہ ایک عملی مثال بھی فراہم کرتا ہے۔
ان کے مطابق چینی جدیدیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ترقی کا کوئی ایک ہی راستہ نہیں ہوتا بلکہ ہر ملک اپنے حالات کے مطابق ترقی کا ماڈل اختیار کر سکتا ہے۔ اس ماڈل میں عوام کو مرکز میں رکھا جاتا ہے اور معاشی بہتری، غربت میں کمی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ماحولیاتی تحفظ پر توجہ دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک کے لیے اہم سبق یہ ہے کہ وہ اپنی قومی ضروریات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی کے راستے کا انتخاب کریں اور دنیا کے دیگر کامیاب تجربات سے سیکھیں۔
شیبو کے مطابق چین کے حکمرانی کے نظام نے ترقی اور معیار زندگی میں نمایاں نتائج فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کا اپنا نظام ہوتا ہے اور عالمی سطح پر اس تنوع کا احترام کیا جانا چاہیے۔
چین کی ترقیاتی پالیسیوں پر عالمی توجہ، تنزانیہ کے قانون ساز کا اعتراف
Comments are closed.