امریکہ کا 2 ناراض اتحادیوں کیخلاف سخت اقدامات پر غور، سزا دینے کا منصوبہ
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد: امریکہ کا 2 ناراض اتحادیوں کیخلاف سخت اقدامات پر غور، سزا دینے کا منصوبہ ہے،برطانوی خبر رساں ادارے Reuters نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اپنے ان نیٹو اتحادی ممالک کے خلاف مختلف تادیبی اقدامات پر غور کر رہا ہے جنہوں نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال میں امریکی کارروائیوں کا ساتھ دینے سے گریز کیا۔
رپورٹ کے مطابق Pentagon کی ایک اندرونی ای میل کے حوالے سے رائٹرزکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیر غور تجاویز میں اسپین کو فوجی اتحاد سے معطل کرنے اور جزائر فاک لینڈ پر برطانیہ کے حقِ ملکیت کے لیے امریکی سفارتی حمایت پر نظرثانی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
رائٹرز کو ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ یہ پالیسی آپشنز پینٹاگون کے اعلیٰ مشیر Elbridge Colby نے تیار کیے ہیں، جو بعض اتحادی ممالک کی جانب سے امریکی افواج کو اپنی سرزمین، فوجی اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہ دینے پر شدید ناراض ہیں۔
پینٹاگون کے ایک اہلکار کے مطابق ایلبرج کولبی نے اپنی سفارشات میں واضح کیا ہے کہ فضائی حدود اور فوجی اڈوں تک رسائی نیٹو اتحاد کی بنیاد ہے، اور جو ممالک اس عمل میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں انہیں اتحاد کے اہم عہدوں سے ہٹانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر Donald Trump اس سے قبل بھی نیٹو اتحادیوں پر سخت تنقید کر چکے ہیں، خاص طور پر اس بات پر کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے اپنی بحری افواج نہیں بھیجیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں نیٹو سے علیحدگی کے امکان سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر آپ ان کی جگہ ہوتے تو کیا ایسا قدم نہ اٹھاتے؟
تاہم اس اندرونی ای میل میں نیٹو سے مکمل علیحدگی یا یورپ میں امریکی فوجی اڈوں کی بندش کی کوئی تجویز شامل نہیں ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان Kingsley Wilson نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں، امریکا نے اپنے اتحادیوں کے لیے بہت کچھ کیا، لیکن ضرورت کے وقت انہیں مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ دفاع اس بات کو یقینی بنائے گا کہ صدر کے پاس ایسے موثر آپشنز موجود ہوں جن کے ذریعے اتحادیوں کو عملی کردار ادا کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
دوسری جانب NATO کے ایک عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ نیٹو کے بانی معاہدے میں کسی بھی رکن ملک کو معطل کرنے کی کوئی شق موجود نہیں، جس سے ان تجاویز کی عملی حیثیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کئی یورپی ممالک امریکا کی سکیورٹی ضمانتوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں، جبکہ خود دفاعی ذمہ داریوں میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کرتے۔
خاص طور پر اسپین کی سوشلسٹ حکومت نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اپنے فوجی اڈے اور فضائی حدود فراہم کرنے سے انکار کیا، جس پر امریکا میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔
اسپین کے وزیراعظم Pedro Sánchez نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت غیر مصدقہ ای میلز کے بجائے سرکاری دستاویزات اور واضح پالیسی بیانات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔
ای میل میں یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ برطانیہ کے زیر انتظام جزائر فاک لینڈ (مالویناس) پر ارجنٹائن کے دعوے کی حمایت پر غور کیا جائے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ارجنٹائن کے صدر Javier Milei کو صدر ٹرمپ کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔
جیویر مائلی نے اس صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ہر ممکن سفارتی اور انسانی کوششیں کر رہا ہے تاکہ یہ جزائر دوبارہ ارجنٹائن کے کنٹرول میں آ سکیں۔
برطانوی وزیراعظم Keir Starmer کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ جزائر فاک لینڈ پر برطانیہ کی خودمختاری غیر متزلزل ہے، تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ میں برطانیہ کے کردار پر تنقید اور سخت الفاظ نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایران کے میزائل امریکا تک نہیں پہنچ سکتے، لیکن یورپ ان کی زد میں ہے، اس کے باوجود جب امریکا کو مدد درکار ہوتی ہے تو اتحادی ممالک ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اتحادی ممالک ضرورت کے وقت ساتھ کھڑے ہونے کو تیار نہ ہوں تو ایسے اتحاد کو مضبوط نہیں کہا جا سکتا۔
موجودہ صورتحال نے 76 سال پرانے نیٹو اتحاد کے مستقبل، یورپ کے دفاع میں امریکا کے کردار اور مغربی اتحاد کی مجموعی سمت پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Comments are closed.