چین میں کوئلے کی کان میں خوفناک دھماکا، ہلاکتیں 82 تک پہنچ گئیں، امدادی آپریشن جاری

چین میں کوئلے کی کان میں خوفناک دھماکا، ہلاکتیں 82 تک پہنچ گئیں، امدادی آپریشن جاری

فوٹو : سوشل میڈیا

اسلام آباد: China کے شہر Chengzi میں واقع لیوشین یو کوئلہ کان میں ہونے والے خوفناک دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 82 ہوگئی ہے، جبکہ متعدد مزدور اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ چینی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ گزشتہ شام اس وقت پیش آیا جب کان کے اندر گیس بھر جانے کے باعث زور دار دھماکا ہوا۔ ابتدائی اطلاعات میں چند ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی تھی، تاہم امدادی کارروائیاں آگے بڑھنے کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ سامنے آیا۔

چینی حکام کے مطابق دھماکے کے وقت بڑی تعداد میں مزدور کان کے اندر کام کر رہے تھے۔ حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں، طبی عملے اور مقامی انتظامیہ کو جائے وقوعہ پر طلب کرلیا گیا، جبکہ کان کے اندر پھنسے مزدوروں کو نکالنے کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق کئی زخمیوں کو تشویشناک حالت میں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ امدادی اہلکاروں کو کان کے اندر دھوئیں، زہریلی گیس اور ملبے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

چینی حکومت نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد گیس سیفٹی نظام میں ممکنہ غفلت کی جانب اشارہ کررہے ہیں، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

حادثے کے بعد ملک بھر میں کوئلہ کانوں کی حفاظتی صورتحال پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چین میں صنعتی ترقی کے باوجود بعض کانوں میں حفاظتی انتظامات اب بھی ناکافی ہیں، جس کے باعث ایسے حادثات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مقامی حکام نے متاثرہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے کان کے اطراف سکیورٹی سخت کردی ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔

چین میں کوئلے کی کان میں خوفناک دھماکا، ہلاکتیں 82 تک پہنچ گئیں، امدادی آپریشن جاری

Comments are closed.