پی ٹی آئی احتساب کمیٹی نے تیمور جھگڑا سے 13 الزامات پر جواب طلب کر لیا

43 / 100

فائل:فوٹو

پشاور:پاکستان تحریک انصاف کی احتساب کمیٹی نے گزشتہ دور حکومت کی بھی چھان بین شروع کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ تیمور جھگڑا سے تیرہ الزامات پر جواب طلب کر لیاجبکہ سابق صوبائی وزیر تیمور جھگڑا نے 35 صفحات پر مشتمل جواب احتساب کمیٹی کو بھیج دیاہے ۔
احتساب کمیٹی نے سوال کیا کہ آپ کے دور حکومت میں صوبہ کئی بار ڈیفالٹ ہوا، پنشن اور گریجویٹی اکاوٴنٹ سے چھتیس بلین نکالے گئے تھے جو واپس نہیں کیے گئے۔
تیمور جھگڑا سے سوال کیا کہ آپ وزیر صحت بھی تھے محکمہ صحت کی جانب سے بھیجی گئی تمام سمریز مبینہ طور پر وزیر خزانہ ہونے کی وجہ سے بغیر کسی معقول جانچ پڑتال کے گزر جاتی تھیں۔ محکمہ صحت کی سمریز کو منظور کرنا کیا یہ مفادات کا ٹکراوٴ نہیں تھا؟ کیا آپ نے کبھی بیڈ گورننس کے اس پہلو کو محسوس کیا؟۔
احتساب کمیٹی نے سوال کیا کہ آپ کے دور حکومت میں خزانہ قرض میں ڈوبا رہا، اس صورتحال کو بہتر بنانے کی کوئی بھی کوشش یا منصوبہ بندی آپ نے خود کی؟

بینک آف خیبر کے پاس بے شمار اور دھوکا دہی والے قرضے تھے کیا اس پر کوئی کارروائی کی گئی۔ صحت انصاف کارڈ میں کئی خرابیاں تھیں جنہیں ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
احتساب کمیٹی نے استفسار کیا کہ پولیو وائرس روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے 2020 میں 20 اور 2022 میں 22 نئے کیسز آئے، آپ پر الزام ہے کہ علاقی صحت ڈئریکٹریٹ ڈاکٹروں کے مخصوص گروپ کو نوازنے کے لیے قائم کیے گئے جو کہ فعال نہ ہو سکے۔
دوسری جانب سابق صوبائی وزیر تیمور جھگڑا نے 35 صفحات پر مشتمل جواب احتساب کمیٹی کو بھیج دیا۔تیمور جھگڑا نے جواب دیا کہ عمران خان کی مجھے خیبر پختونخوا کابینہ میں شامل کرنے کی افواہیں شروع ہوئیں تو مجھے فوراً اطلاع دی گئی کہ مجھ پر اچانک کرپشن کی تحقیقات کی جائیں گی۔ میں نے کبھی کابینہ میں شامل ہونے کا نہیں کہا، خون کے آخری قطرے تک عمران خان اور پاکستان کے لیے لڑوں گا۔
سابق وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ سچ کبھی چھپ نہیں سکتا اور میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے، افسوس کی بات ہے کہ عمران خان کی رہائی پر توجہ مرکوز کرنے والے اتنے غیر محفوظ ہیں کہ وہ اپنے اندر کے عدم تحفظ کو ہی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

Comments are closed.