ٹرمپ کو برجستہ جواب، ہم نہ ہوتے تو امریکی فرانسیسی بول رہے ہوتے، کنگ چارلس
فوٹو : فائل
اسلام آباد: کنگ چارلس کا ٹرمپ کو برجستہ جواب، ہم نہ ہوتے تو امریکی فرانسیسی بول رہے ہوتے، کنگ چارلس کا یورپ سے متعلق بیان پر دلچسپ جملوں کا تبادلہ برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سوم نے یورپ سے متعلق اپنے متنازع بیان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نہایت برجستہ اور دلچسپ انداز میں جواب دے دیا، جس نے محفل میں موجود شرکاء کی توجہ حاصل کر لی۔
وائٹ ہاؤس میں برطانوی شاہی خاندان کے اعزاز میں دیے گئے ایک پُروقار عشائیے کے دوران کنگ چارلس سوم اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان خوشگوار ماحول میں جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اس موقع پر کنگ چارلس نے ماضی میں ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکا دوسری عالمی جنگ میں شامل نہ ہوتا تو آج یورپ کے لوگ جرمن یا جاپانی زبان بول رہے ہوتے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے کنگ چارلس نے مسکراتے ہوئے کہا، “جناب صدر، آپ نے فرمایا تھا کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو یورپ جرمن بول رہا ہوتا، لیکن میں یہ کہوں گا کہ اگر ہم نہ ہوتے تو شاید آپ فرانسیسی بول رہے ہوتے۔” ان کے اس جواب پر تقریب میں موجود مہمانوں نے قہقہے لگائے اور فضا خوشگوار ہو گئی۔
کنگ چارلس نے اپنی گفتگو میں برطانیہ اور امریکا کے درمیان تاریخی تعلقات، مشترکہ اقدار اور عالمی امن کے لیے دونوں ممالک کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے عالمی جنگوں سمیت کئی نازک مواقع پر مل کر کام کیا اور جمہوریت، آزادی اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے اور برطانیہ و امریکا کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مستقبل میں بھی عالمی امن و ترقی کے لیے اہم رہے گی۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ماضی میں ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کی مداخلت کے بغیر دوسری عالمی جنگ کا نقشہ مختلف ہو سکتا تھا اور یورپی ممالک کی زبانیں اور ثقافتیں بدل چکی ہوتیں۔
کنگ چارلس کے حالیہ ردعمل کو سفارتی مزاح اور حاضر جوابی کی ایک عمدہ مثال قرار دیا جا رہا ہے، جس نے نہ صرف ماحول کو خوشگوار بنایا بلکہ تاریخی تناظر میں برطانیہ کے کردار کی بھی یاد دہانی کرائی۔
Comments are closed.