ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کا طویل ٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ جنگ،اور یوکرین تنازع پرگفتگو

ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کا طویل ٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ جنگ،اور یوکرین تنازع پرگفتگو

فوٹو : فائل

اسلام آباد: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم اور طویل ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران کی صورتحال اور یوکرین جنگ سمیت عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

کریملن کے سینئر معاون یوری اوشاکوف نے اس رابطے پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو 90 منٹ سے زائد جاری رہی اور اس دوران بات چیت کھلے انداز اور پیشہ ورانہ ماحول میں ہوئی۔

بریفنگ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران کے گرد سکیورٹی صورتحال اور خلیج فارس کے حساس معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ یوری اوشاکوف نے بتایا کہ صدر پیوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو مثبت اور بروقت قدم قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیوٹن کے نزدیک اس فیصلے سے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا اور خطے میں مجموعی استحکام کے امکانات روشن ہوں گے۔ تاہم روسی صدر نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا تو اس کے اثرات صرف ایران اور اس کے پڑوسی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی برادری اس کے سنگین نتائج بھگت سکتی ہے۔

کریملن کے معاون کے مطابق پیوٹن نے واضح کیا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ اہم ٹیلیفونک رابطہ ماسکو کی جانب سے شروع کیا گیا۔

دوسری جانب دونوں رہنماؤں کے درمیان یوکرین جنگ پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی، جو روس یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ یوری اوشاکوف کے مطابق ٹرمپ کی درخواست پر صدر پیوٹن نے جنگی محاذ کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ روسی افواج اس وقت اسٹریٹجک برتری حاصل کیے ہوئے ہیں اور مخالف قوتوں کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی قیادت میں کیف حکومت کے طرز عمل پر تقریباً یکساں مؤقف کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق یورپی ممالک کی حمایت سے جنگ کو طول دینے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے، جس سے تنازع کے حل میں پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ یوکرین میں جاری اس جنگ کے باعث اب تک ہزاروں شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے ایک بڑا انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔

گفتگو کے دوران صدر پیوٹن نے یوم فتح کے موقع پر عارضی جنگ بندی کے اعلان پر آمادگی ظاہر کی، جس کی ڈونلڈ ٹرمپ نے بھرپور حمایت کی۔ ٹرمپ نے اس موقع کو دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخی فتح کی علامت قرار دیا۔

یاد رہے کہ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد میں یومِ فتح مناتا ہے، تاہم موجودہ سکیورٹی خدشات اور یوکرین کی ممکنہ جوابی کارروائیوں کے پیش نظر اس بار ماسکو میں ہونے والی فوجی پریڈ کو محدود پیمانے پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کا طویل ٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ جنگ،اور یوکرین تنازع پرگفتگو

Comments are closed.