وزیراعظم شہباز شریف نے پانچ سالہ ’وزیراعظم اپنا گھر پروگرام‘ کا باضابطہ افتتاح کر دیا
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پانچ سالہ ’وزیراعظم اپنا گھر پروگرام‘ کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے، جس کے تحت 32 کھرب روپے کی لاگت سے 5 لاکھ گھروں کی تعمیر اور فنانسنگ کی جائے گی۔
حکومت کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف رہائش کے دیرینہ مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ اس سے تعمیراتی شعبے میں تیزی، روزگار کے مواقع اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس کا مقصد ایسے شہریوں کو اپنا گھر فراہم کرنا ہے جو محدود مالی وسائل کے باعث اب تک اس بنیادی سہولت سے محروم رہے۔ انہوں نے اس اقدام کو ریاستی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہر شہری کو اپنی چھت میسر ہونا اس کا بنیادی حق ہے۔
وزیراعظم کے مطابق یہ اسکیم ملک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیلائی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سے مستفید ہو سکیں۔ پروگرام کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں 5 لاکھ گھروں کے لیے قرض فراہم کیا جائے گا جبکہ پہلے سال کے دوران 50 ہزار گھروں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت ایک کروڑ روپے تک کا قرض حاصل کیا جا سکتا ہے، جس میں گھر کی کل قیمت کا کم از کم 10 فیصد درخواست گزار کو خود ادا کرنا ہوگا جبکہ باقی 90 فیصد رقم بینک فراہم کرے گا۔ قرض کی ادائیگی کے لیے زیادہ سے زیادہ 20 سال کی مدت رکھی گئی ہے تاکہ شہری آسانی سے اقساط ادا کر سکیں۔
قرض کو چار مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا ہے: 25 لاکھ، 50 لاکھ، 75 لاکھ اور ایک کروڑ روپے تک، تاکہ مختلف آمدنی رکھنے والے افراد اپنی استطاعت کے مطابق فائدہ اٹھا سکیں۔ اس فنانسنگ کے ذریعے شہری بنا بنایا گھر، فلیٹ یا اپارٹمنٹ خرید سکتے ہیں، اپنے موجودہ پلاٹ پر تعمیر کر سکتے ہیں یا پلاٹ خرید کر اس پر گھر بھی بنا سکتے ہیں۔
” اپنا گھر پروگرام کے تحت بیس سال کی مدت کے لیے ایک کروڑ روپے قرضہ ملے گا۔ پہلے 10 سال مارک اپ صرف 5 فی صد ہو گا۔
جو بینکس اس میں لیڈ لیں گے وہ ہمارے سروں کے تاج ہوں گے اور ان کو 14 اگست کو نیشنل ایوارڈ دلوائیں گے اور جو بینکس پیچھے ہٹیں گے تو میں بڑے ادب سے کہنا چاہتا ہوں کہ… pic.twitter.com/ylKznRQoi9
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) April 30, 2026
گھر کے سائز کے لیے بھی حدود مقرر کی گئی ہیں، جس کے تحت 10 مرلہ تک کا مکان یا 1500 مربع فٹ تک کا فلیٹ اس اسکیم میں شامل ہوگا۔ تاہم جائیداد کی قیمت کی کوئی بالائی حد مقرر نہیں کی گئی۔
اہلیت کے لیے درخواست گزار کا پاکستانی شہری اور قومی شناختی کارڈ کا حامل ہونا ضروری ہے، جبکہ یہ سہولت صرف ان افراد کے لیے ہے جو پہلی بار گھر خرید رہے ہیں۔ عمر کی حد 20 سے 65 سال مقرر کی گئی ہے اور کم از کم ماہانہ آمدنی 40 ہزار روپے ہونا لازمی قرار دی گئی ہے۔ ملازمت پیشہ افراد کے لیے کم از کم 6 ماہ کا تجربہ جبکہ کاروباری افراد کے لیے 2 سال کا تجربہ ضروری ہے۔
درخواست گزار اپنے قریبی رشتہ داروں کو شریک درخواست گزار کے طور پر شامل کر سکتے ہیں، جس سے مجموعی آمدنی کو یکجا کر کے قرض حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بینک درخواست گزار کی آمدنی اور اخراجات کا جائزہ لے کر قرض کی منظوری دے گا تاکہ ادائیگی کی صلاحیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس اسکیم کے تحت گھر کی ملکیت درخواست گزار کے نام پر ہی ہوگی، تاہم قرض کی مکمل ادائیگی تک جائیداد کے اصل کاغذات بینک کے پاس بطور ضمانت رہیں گے اور اس پر بینک کا قانونی حق (لین) برقرار رہے گا۔ قرض کی مکمل واپسی کے بعد بینک این او سی جاری کرے گا اور جائیداد مکمل طور پر مالک کے اختیار میں آ جائے گی۔
حکومت کے مطابق درخواستوں کا عمل 29 اپریل سے شروع ہو چکا ہے جبکہ آن لائن اپلائی کرنے کے لیے سرکاری ویب پورٹل کو جلد فعال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہری کمرشل بینکوں، اسلامی بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنیوں سے بھی براہِ راست رجوع کر سکتے ہیں۔
درخواست کے لیے شناختی کارڈ، آمدنی کا ثبوت اور جائیداد سے متعلق دستاویزات درکار ہوں گی، جبکہ بینک ایک ماہ کے اندر درخواست پر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔ اس اسکیم کے لیے کوئی پروسیسنگ فیس مقرر نہیں کی گئی۔
پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ پہلے 10 سال کے لیے شرح منافع 5 فیصد رکھی گئی ہے، جبکہ بعد کے 10 سال کے لیے شرح سود مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہوگی۔ وزیراعظم نے بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ اس قومی منصوبے میں بھرپور کردار ادا کریں، بصورت دیگر غفلت برتنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ’اپنا گھر پروگرام‘ نہ صرف لاکھوں افراد کو ذاتی رہائش فراہم کرے گا بلکہ تعمیراتی صنعت کو فعال بنا کر معیشت میں استحکام اور ترقی کا باعث بھی بنے گا۔
Comments are closed.