خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردی،مرنے والوں کی تعداد 9 ہوگئی

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردی،مرنے والوں کی تعداد 9 ہوگئی

فوٹو : سوشل میڈیا

سرائے نورنگ: خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردی،مرنے والوں کی تعداد 9 ہوگئی ، فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے سرائے نورنگ بازار کو نشانہ بنایا، جس میں نو افراد جاں بحق ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق، دہشت گردوں نے بارودی مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب کر رکھا تھا جسے سڑک کے بیچوں بیچ اڑا دیا گیا۔ اس دلخراش واقعے کے نتیجے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے سرائے نورنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

میڈیکل اینڈ ٹیچنک انسٹیٹیوٹ (ایم ٹی آئی) بنوں کے ترجمان نعمان خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس دھماکے کے 29 زخمی بنوں لائے گئے ہیں، جن میں سے 15 زخمی ڈسٹرکٹ ہیدڈ کواٹرز ہسپتال بنوں اور پانچ زخمیوں کو خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے نو افراد میں دو ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ دھماکہ نورنگ کے مصروف ترین بازار میں واقع پھاٹک چوک پر ہوا۔ اس مقام پر صبح کے اوقات میں زیادہ رش کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک کو کنٹرول کرتے ہیں۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ لاشوں اور زخمیوں کو نورنگ ہسپتال کے علاوہ بنوں میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال اور خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال منقتل کر دیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لکی مروت نذیر خان نے بتایا کہ دھماکے میں نو افراد اور شہید 18 زخمی ہوئے ہیں، شہداء میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں،ڈی پی او نذیر خان کے مطابق دھماکہ موٹرسائیکل میں رکھے ای آئی ڈی سے ہوا ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں دہشت گردوں کی ممکنہ موجودگی کے پیش نظر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ ا

اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے شہدا کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری  بیان میں انہوں نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حملے میں دو پولیس اہلکار اور پانچ شہری شہید ہوئے ہیں اور ہم شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔

Comments are closed.