ایران کا امریکہ کے ساتھ مزاکرات کرنے اور اسلام آباد آنے سے انکار، پاکستان کو آگاہ کر دیا

فوٹو : سوشل میڈیا

تہران: ایران کا امریکہ کے ساتھ مزاکرات کرنے اور اسلام آباد آنے سے انکار، پاکستان کو آگاہ کر دیا، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی دور کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق موجودہ حالات میں تہران کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے حوالے سے کوئی پیش رفت زیرِ غور نہیں،کیونکہ امریکہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں ہے.

اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے اور ایران نے ثالث پاکستان کو بتا دیا ہے،دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں، جس کی وجہ سے فوری طور پر مذاکرات کا امکان نظر نہیں آتا۔

تہران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کا کوئی منصوبہ نہیں، ایرانی میڈیا

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی، بحری ناکہ بندی، اور جوہری پروگرام جیسے معاملات نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں جاری تنازعات اور اعتماد کے فقدان نے بھی دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں ناکہ بندی کشیدگی میں کمی نہ آنے کی بڑی وجہ ہے اور مبصرین کے مطابق مستقبل قریب میں مذاکرات کی بحالی مشکل دکھائی دیتی ہے، جبکہ خطے میں امن کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں.

دوسری طرف پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران کو دھمکیوں یا دباؤ کے ذریعے غیر منطقی مطالبات ماننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ناکہ بندی جاری رکھنا اور ایران کو جنگی جرائم کی دھمکیاں دینا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف بیانات دے کر یہ دعویٰ کرنا کہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، حقیقت کے برعکس ہے، جب تک ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رہے گی، اس وقت تک اختلافات بھی برقرار رہیں گے.

Comments are closed.