ایران۔امریکا مفاہمتی یادداشت نافذ، چین کا تمام فریقوں پر وعدوں کی پاسداری پر زور

چین نے ایران امریکا معاہدے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب مثبت قدم قرار دے دیا

فوٹو : فائل

بیجنگ / اسلام آباد: ایران۔امریکا مفاہمتی یادداشت نافذ، چین کا تمام فریقوں پر وعدوں کی پاسداری پر زور دیا ہے چین نے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے فروغ کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت اثرات کا حامل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے والے تمام فریق اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جنگ کے آغاز سے ہی چین نے کشیدگی کے خاتمے، امن کے قیام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے تعمیری اور فعال کردار ادا کیا ہے اور بیجنگ مستقبل میں بھی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

دریں اثنا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے، جنگ بندی کے نفاذ اور آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر مقررہ وقت سے قبل ہی دستخط کر دیے تھے، جس کے بعد یہ معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران۔امریکا مفاہمتی یادداشت پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں دستخط کیے، جبکہ دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے صدر مسعود پزشکیان کی تصاویر جاری کیں جن میں انہیں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی بطور ثالث اس معاہدے پر دستخط کیے، جسے علاقائی سفارت کاری اور جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Comments are closed.