امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا اعتراض مسترد،امریکہ کاثالثی کےلئے پاکستان پر اظہاراعتماد

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا اعتراض مسترد،امریکہ کاثالثی کےلئے پاکستان پر اظہاراعتماد

فوٹو : فائل

واشنگٹن / اسلام آباد: امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا اعتراض مسترد،امریکہ کاثالثی کےلئے پاکستان پر اظہاراعتماد سامنے آیا ہے یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب  امریکی کانگریس میں ہونے والی سماعت کے دوران اپنے متنازع بیانات کے لیے مشہور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ اور امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین سے سوالات کئے۔

امریکی وزیرِ دفاع نے اس کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا وہ ان مذاکرات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیں گے، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس پر سینیٹر گراہم بظاہر جُھنجلا گئے اور ریمارکس دیے کہ وہ پاکستان پر بھروسہ نہیں کرتے اور اگر انھوں نے واقعی ایرانی جہاز کو محفوظ رکھنے میں مدد کی ہے تو ہمیں کوئی اور ثالث ڈھونڈنا چاہیے۔

دوسری طرف اسی تناظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے حوالے سے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی ہے۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ ایران جنگ بندی میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا جبکہ پاکستانی قیادت خطے میں استحکام کے لیے “بہترین کام” کر رہی ہے۔

 لنڈسے گراہم نے پاکستان کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران اپنے فوجی اثاثے پاکستانی اڈوں پر محفوظ کر رہا ہے تو پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا۔

امریکی سینیٹر نے کہا کہ انہیں پاکستان پر “بالکل اعتماد نہیں”، جبکہ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ایرانی فوجی طیاروں اور اثاثوں کو ممکنہ امریکی یا اسرائیلی حملوں سے بچانے کے لیے اپنے ایئر بیسز پر جگہ دے رہا ہے۔

پاکستان نے امریکی میڈیا رپورٹ مسترد کردی

پاکستان نے امریکی ٹی وی چینل CBS News کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے “گمراہ کن” اور “سنسنی خیز” قرار دیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق مذاکرات کے ابتدائی مرحلے کے دوران ایران اور امریکا سے متعدد طیارے پاکستان آئے تھے، جن کا مقصد سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظامی اہلکاروں کی نقل و حرکت کو سہولت فراہم کرنا تھا۔

پاکستان نے ایرانی طیاروں سے متعلق امریکی ٹی وی چینل کا دعویٰ مسترد کر دیا

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ کچھ طیارے اور معاون عملہ متوقع سفارتی دوروں کی وجہ سے عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہے، تاہم اس کا کسی فوجی ہنگامی صورتحال یا دفاعی تحفظ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کیلئے انتظامات

ترجمان کے مطابق پاکستان نے موجودہ سفارتی اور لاجسٹک انتظامات کے تحت ایرانی وزیرِ خارجہ کے دورۂ اسلام آباد کو بھی سہولت فراہم کی۔

دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، ذمہ دار اور تعمیری سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے اور وہ خطے میں امن، کشیدگی میں کمی اور استحکام کیلئے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

ادھر پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار سفارت کاری کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے، تاہم ایران کی جانب سے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط کے بعد مذاکراتی عمل میں پیش رفت سست پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ لنڈسے گراہم ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والے امریکی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور وہ ماضی میں بھی ٹرمپ انتظامیہ پر ایران کے خلاف مزید سخت پالیسی اپنانے کیلئے دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔

Comments are closed.