اسلام آباد میں ایران اورامریکی وفود کے درمیان کوئی ملاقات متوقع نہیں، ایرانی وزارت خارجہ

فوٹو : فائل

اسلام آباد: اسلام آباد میں ایران اورامریکی وفود کے درمیان کوئی ملاقات متوقع نہیں، ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقچی اس دورے کا مقصد باہمی امور ہیں اور قیام امن سے متعلق ’ایرانی مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے دورے پر موجود عباس عراقچی کی امریکی وفد سے کوئی ملاقات متوقع نہیں ہے۔

انھوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’ہم ایک سرکاری دورے پر پاکستان کے شہر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی خطے میں امن کی بحالی اور امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی جارحانہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی اور معاون کردار کے تناظر میں پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔‘

اسماعیل بقائی نےبیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ’کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ایران کے مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘

دوسری طرف پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر ایک پیغام میں بتایا کہ انھوں نے اسلام آباد میں عراقچی کا استقبال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے لیے باہمی روابط کے منتظر ہیں۔

امریکہ کے جانب سے اس بار مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان نہیں بھیجا گیا بلکہ وائٹ ہاؤس کے مطابق انھیں اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ’ضرورت پڑنے پر‘ اسلام آباد روانہ کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران میں ان افراد سے بات چیت کر رہا ہے جو ’برسرِ اقتدار ہیں۔

Comments are closed.