ایران سے جنگ بڑھانے پر وائٹ ہاؤس میں اختلافات، فوجی قیادت اور جے ڈی وینس کے تحفظات

بیروت پر حملے ناقابل قبول ہیں، اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، جے ڈی وینس

فوٹو : سوشل میڈیا

واشنگٹن: ایران سے جنگ بڑھانے پر وائٹ ہاؤس میں اختلافات، فوجی قیادت اور جے ڈی وینس کے تحفظات سامنے آئے ہیں امریکہ میں ایران کے خلاف ممکنہ مزید فوجی کارروائی کے معاملے پر اعلیٰ سطح پر اختلافات کا اظہار کیا گیا ہے ، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے جنگ کو مزید وسعت دینے کے ممکنہ نتائج پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی میڈیا، بالخصوص سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مزید فوجی آپشنز پر غور کر رہے تھے۔

جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے ممکنہ فوجی کارروائی کے عسکری، سیاسی اور تزویراتی اثرات سے آگاہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین نے امریکی اسلحے کے ذخائر، طویل جنگ کے خطرات، مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کی سلامتی اور خطے میں کشیدگی کے مزید پھیلنے کے امکانات پر خصوصی تشویش ظاہر کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج صدر کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم ہر فوجی اقدام کے ممکنہ نتائج اور اس کے طویل المدتی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ مسلسل فوجی کارروائیوں سے امریکی دفاعی وسائل اور اسلحے کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور اہلکار بھی ممکنہ جوابی کارروائیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔

سی این این کے مطابق امریکا نے تقریباً دو ہفتوں تک جاری فضائی حملوں کے بعد فی الحال ایران پر بمباری کا سلسلہ روک دیا ہے، تاہم انتظامیہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ فیصلہ مستقل ہے یا حالات کے مطابق مستقبل میں دوبارہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے، لیکن انہوں نے نجی طور پر اپنے مذاکرات کاروں کو ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

متعدد امریکی حکام اور صدر کے قریبی مشیروں کا خیال ہے کہ جنگ میں مزید شدت لانے سے مطلوبہ سیاسی یا عسکری نتائج حاصل ہونا یقینی نہیں، جبکہ اس سے پورا مشرق وسطیٰ ایک وسیع علاقائی تنازع کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن میں اس وقت ایران سے نمٹنے کے حوالے سے دو مختلف آراء موجود ہیں۔ ایک حلقہ فوجی دباؤ بڑھانے کا حامی ہے، جبکہ دوسرا سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کو زیادہ مؤثر راستہ قرار دے رہا ہے۔

Comments are closed.