کراچی کا نسلہ ٹاور مسمار ہونے کے 5 سال بعد آئینی عدالت نے احکامات واپس لے لئے

فوٹو : فائل

اسلام آباد: کراچی کا نسلہ ٹاور مسمار ہونے کے 5 سال بعد آئینی عدالت نے احکامات واپس لے لئے، کراچی کے معروف نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے احکامات واپس لیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا بنیادی اختیار متعلقہ صوبائی حکومت اور اس کے اداروں کے پاس ہے، نہ کہ عدلیہ کے پاس۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ عدالتوں کو اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہنا چاہیے اور غیر ضروری معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے زیر سماعت مقدمے کے دائرہ کار سے آگے بڑھتے ہوئے وسیع نوعیت کے احکامات جاری کیے، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی رپورٹس کی بنیاد پر قانونی تقاضے مکمل کیے بغیر مسماری کے احکامات جاری نہیں کیے جا سکتے تھے۔

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ منصفانہ قانونی کارروائی (Due Process) ہر مقدمے میں آئین کا لازمی تقاضا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کو قانونی تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر کارروائی آئین، قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام، نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے مؤثر قانونی نظام اور متعلقہ ادارے پہلے سے موجود ہیں۔ سندھ حکومت، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے آئینی اور قانونی طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے پابند ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے احکامات اور ان احکامات کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کو واپس لیتے ہوئے قرار دیا کہ مستقبل میں ایسے معاملات میں قانون کے تقاضوں، شفاف طریقہ کار اور فریقین کو مکمل سماعت کے حق کو یقینی بنایا جائے۔

جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق، عوامی مفاد اور شہری سہولیات کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارکس، کھیل کے میدان، گرین بیلٹس، فٹ پاتھ، ساحلی علاقوں اور دیگر عوامی مقامات کو قبضوں، غیر قانونی تعمیرات اور غیر مجاز تبدیلیوں سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ کراچی کا نسلہ ٹاور سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد مسمار کیا گیا تھا، جسے غیر قانونی تعمیر قرار دیا گیا تھا۔ اس مقدمے کو پاکستان میں شہری منصوبہ بندی، غیر قانونی تعمیرات اور عدالتی اختیارات کے حوالے سے ایک اہم نظیر سمجھا جاتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے کو عدالتی اختیارات، آئینی دائرۂ کار اور قانونی طریقہ کار کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر کثیر المنزلہ عمارت نسلہ ٹاور 2022 کو 69 روز کا وقت لگا کر مکمل طور پر مسمار کیا گیا تھا۔ 28 نومبر کو نسلہ ٹاور کو توڑنے کا کام شروع ہوا تھا جبکہ 26 جنوری 2023 کو ضلعی انتظامیہ کے مطابق 5منزلہ نسلہ ٹاور کو مکمل مسمار کردیاگیا.

یہ ٹاور توڑنے کیلئے 8 سو مزدوروں کی نفری کام کیا ، عمارت کو توڑنے کا کام 24 گھنٹے جاری رکھا گیا تھا، عمارت کو تورنے کے لئے بھاری مشینری کا استعمال کیا گیا۔انتظامیہ کا کہنا تھا کہ نسلہ ٹاور کی عمارت کو توڑنے کے لئے 5 ہیوی مشینیوں نے کام کیا.

Comments are closed.