عمران خان کو کس قانون کے تحت قید تنہائی میں رکھا گیا؟ ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا

فوٹو : فائل

اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کو کس قانون کے تحت قید تنہائی میں رکھا گیا؟ ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا، یہ پیش رفت بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی قید تنہائی متعلق کیس میں سامنے آئی ہے جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریڈنٹ اڈیالہ سے تفصیلی رپورٹ اور جیل ریکارڈ طلب کر لیا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے قید تنہائی کیس میں اہم حکم جاری کر دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریڈنٹ اڈیالہ سے تفصیلی رپورٹ اور جیل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ اگر قید تنہائی میں رکھا گیا تو کیوں رکھا گیا ؟ کس قانون کے تحت ؟ کتنی دیر کے لیے؟ اور کیا یہ سزا ہے؟

عدالت نے کہا کہ درخواستیں قابل سماعت ہیں یا نہیں ؟ رپورٹس آنے کے بعد عدالت تعین کرے گی ،بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کی جیل میں کیسی حالت ہے ؟ سپریڈنٹ رپورٹ جمع کروائے ، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو کیا سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ، اس متعلق بھی رپورٹ دیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ قید تنہائی کے الزامات میں کتنی صداقت ہے ؟ تفصیلات جمع کرائیں، قابل سماعت ہونا اور کیس کے میرٹ رپورٹس سامنے آنے کے بعد فیصلہ ہو گا، قید تنہائی متعلق تفصیلی رپورٹ اڈیالہ جیل سپرنٹینڈنٹ جمع کروائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے استفسار کیا گیا کہ کس قانون کے تحت کتنے عرصے کے لیے کن حالات میں قید تنہائی میں رکھا گیا رپورٹ دیں، جیل ریکارڈ ، رجسٹر ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات دو قیدیوں کے حوالے سے ساتھ لیکر آئندہ سماعت پر آئیں.

آئی جی جیل خانہ جات سپریڈنٹ جیل لیول کا افسر آئندہ سماعت پر عدالت پیش کریں، ایسا افسر عدالت کے سامنے پیش ہو جس کو کیس کے حالات و واقعات متعلق آگاہی ہو، اس موقع پر عدالت نے 6 اگست کے لیے تمام فریقین سے بھی رپورٹس طلب کر لیں۔

Comments are closed.