پاکستان امن، سفارتکاری،مضبوط دفاع پر یقین رکھتا ہے، پاک بحریہ کو مضبوط بنانا ترجیح ہے، وزیراعظم
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک بحریہ کی پاس آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ برادر ممالک ترکیہ، بحرین، بنگلہ دیش، عراق، سری لنکا اور جبوتی کے کیڈٹس بھی اس پریڈ کا حصہ ہیں، جو پاکستان کے دفاعی اداروں پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔
وزیراعظم نے کراچی تقریب میں کہا کہ کیڈٹس نے دورانِ تربیت جو پیشہ ورانہ مہارت اور تجربہ حاصل کیا ہے، وہ عملی زندگی میں ان کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ انہوں نے کیڈٹس کے والدین، کمانڈنٹ اور تربیتی عملے کو بھی اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بہترین تربیت ہی مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی بنیاد ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ آج پاکستان دنیا میں امن کے علمبردار کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مخلصانہ ثالثی اور برادر ممالک کے تعاون سے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط ممکن ہوئے، جبکہ ثالث کی حیثیت سے انہوں نے بھی اس سمجھوتے پر دستخط کیے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امن کے لیے کی گئی انتھک کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا حالیہ دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے گہرے تعلقات اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت، سپلائی چین، میری ٹائم سکیورٹی، بحری راہداریوں اور نیویگیشن کی آزادی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، اسی لیے پاک بحریہ کو مزید مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں پاک بحریہ نے اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ آپریشن محافظ البحر کے ذریعے بلا تعطل توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی قابلِ تحسین کارنامہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مئی میں شرمناک شکست کے بعد مشرقی ہمسایہ مختلف اوچھے ہتھکنڈوں اور پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ہماری مسلح افواج مغربی سرحد پر غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل امن مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی احترام کے ذریعے چاہتا ہے۔
پاکستان امن، سفارتکاری،مضبوط دفاع پر یقین رکھتا ہے، پاک بحریہ کو مضبوط بنانا ترجیح ہے، وزیراعظم
Comments are closed.