وائٹ ہاؤس کو ایران اسرائیل سے متعلق وینس اور روبیو کے بیانات پر وضاحت جاری کرنا پڑی

ایران کے ساتھ مزاکرات کی صورتحال ابھی غیر واضح، غیرمستحکم ہے، ترجمن وائٹ ہاوس

فوٹو : فائل

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کو ایران اسرائیل سے متعلق وینس اور روبیو کے بیانات پر وضاحت جاری کرنا پڑی ہے اور اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کا ردعمل سامنے آیا ہے کیونکہ جے ڈی وینس ماضی میں بیرون ملک جنگوں کے ناقد رہے ہیں، جبکہ مارکو روبیو ایران، روس اور کیوبا کے خلاف سخت مؤقف کے لیے مشہور ہیں

وائٹ ہاؤس نے نائب صدر اور وزیر خارجہ کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلافات کی سختی سے تردید کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ صرف ایک ہی کیمپ ہے، وہ صدر ٹرمپ کا کیمپ ہے، اور پوری انتظامیہ صدر کی اس کوشش کے ساتھ کھڑی ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے بھی اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرانا اور جھوٹا بیانیہ ہے۔ پوری انتظامیہ صدر ٹرمپ کے پیچھے سو فیصد متحد ہے۔

محکمہ خارجہ کے ایک اور ترجمان نے بھی واضح کیا کہ لبنان کے معاملے پر بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور انتظامیہ کا مقصد لبنان کی حکومت کی پورے ملک پر خودمختاری بحال کرنا ہے۔

اس کے باوجود بعض تجزیہ کار اس وضاحت سے مطمئن نہیں۔ امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ سینئر فیلو مائیکل روبن کا کہنا ہے، روبیو اور وینس بنیادی طور پر مختلف سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان دونوں کے خارجہ پالیسی کے نظریات الگ الگ دھڑوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

جے ڈی وینس ماضی میں بیرون ملک جنگوں کو جان و مال کا ضیاع قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ مارکو روبیو سینیٹ میں ایران، روس اور کیوبا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے والے رہنما کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما ریپبلکن پارٹی کے دو مختلف نظریاتی دھڑوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک گروہ بیرون ملک مداخلت کا حامی ہے، جبکہ دوسرا سمجھتا ہے کہ حالیہ برسوں کی کئی جنگیں امریکا کے لیے مہنگی اور غیر ضروری ثابت ہوئیں۔

رائٹرز اور اِپسوس کے حالیہ سروے کے مطابق صرف 52 فیصد ریپبلکن ووٹرز کا خیال ہے کہ موجودہ تنازع نے امریکآ کی پوزیشن کو مضبوط بنایا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر بھی اس معاملے پر واضح تقسیم موجود ہے۔

اس کے باوجود جے ڈی وینس اور مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کے تمام اہم خارجہ پالیسی فیصلوں کی حمایت کی ہے، جن میں ایران کے خلاف کارروائیاں اور بعد ازاں امن مذاکرات کی راہ اختیار کرنا بھی شامل ہے۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران کے بارے میں فیصلہ اس کے الفاظ پر نہیں بلکہ عملی اقدامات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات سے بعض معاملات پر مختلف اندازِ فکر سامنے آیا ہے، خاص طور پر اسرائیل اور لبنان سے متعلق پالیسی پر دونوں رہنماؤں کے لہجے میں فرق محسوس کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکا کے ابتدائی معاہدے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی حلقوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ بیروت میں شہری تنصیبات پر اسرائیلی بمباری، جس کا مقصد حزب اللہ کو کمزور کرنا بتایا جاتا ہے، امریکا کی قیادت میں جاری امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے دورے کے دوران لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے بار بار کہا کہ اسرائیل کے اقدامات حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں اور انہیں جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔

جب ان سے وینس کی تنقید کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے براہ راست جواب دینے کے بجائے لبنان میں قائم حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی چوکی پر حالیہ حملے کا حوالہ دیا۔

Comments are closed.