وفاقی کمیٹی کے ساتھ مزاکرات ختم، عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون احتجاج کی کال برقرار

فوٹو : فائل

مظفر آباد: مظفرآباد وفاقی کمیٹی کے ساتھ مزاکرات ختم، عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون احتجاج کی کال برقرار رکھی اور عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال اور لانگ مارچ کی کال برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔

پی سی مظفرآباد میں ہونے والے ان مزاکرات میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی شریک تھی تاہم کے مذاکرات ختم ہوگئے، اس حوالے سے جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق مشیر وزیراعظم سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہاکہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے.

انھوں نے کہا کہ مزاکرات کسی بھی وقت دوبارہ ہو سکتے ہیں، آزاد کشمیر کے انتخابات آئین کے مطابق ہوں گے، رانا ثنااللہ نے کہا حکومت آزادکشمیر نے اس صورتحال میں آل پارٹیز کانفرس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور 6 یا 7 جون تک دوبارہ میٹنگ کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سمیت عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر مذاکرات ہوئے، حتمی مذاکرات کے بعد ہی آزادکشمیر میں عام انتخابات کا شیڈول جاری کرنےکا فیصلہ ہوگا۔

واضح رہے کہ مذاکرات میں رانا ثناء اللہ ، قمرزمان کائرہ ، راجہ پرویز اشرف، احسن اقبال، وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

مظفر آباد میں عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان کا مظفرآباد کے مہنگ پی سی ہوٹل میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے دوران کھانا کھانے سے انکار کیا.

ایکشن کمیٹی نے اپنا کھانا کھایا اس موقع پر شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ ‘عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کھانا نہیں کھا سکتے کیوں کہ ہماری جنگ ہی اس کے خلاف ہے.

انھوں نے کہا کہ ہم تو قومی خزانہ کے بے دریغ استعمال کیخلاف ہی تو احتجاج کر رہے ہیں اور ایسے سرکاری خزانے سے کھانا کیسے کھائیں ہم تو عوام کے حقوق اور اپنے ساتھ ہونے والے معاہدہ پہ عمل درآمد چاہتے ہیں.

Comments are closed.