ایران کی اجازت کے بعد قطری ایل این جی جہاز پاکستان روانہ، کشیدہ حالات میں بھی گیس سپلائی جاری

ایران کی اجازت کے بعد قطری ایل این جی جہاز پاکستان روانہ، کشیدہ حالات میں بھی گیس سپلائی جاری

فوٹو : فائل

اسلام آباد: ایران کی اجازت کے بعد قطری ایل این جی جہاز پاکستان روانہ، کشیدہ حالات میں بھی گیس سپلائی جاری ہے ، پاکستان اور قطر کے درمیان مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور خلیجی پانیوں میں بڑھتے سیکیورٹی خطرات کے باوجود جاری ہے۔ ایران کی خصوصی اجازت کے بعد قطری ایل این جی بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کر کے پاکستان کی جانب روانہ ہو گیا ہے، جس کے منگل کو پورٹ قاسم پہنچنے کی توقع ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق “مہزم” نامی قطری ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر کر پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عالمی شپنگ ڈیٹا کے مطابق ایک لاکھ چوہتر ہزار مکعب میٹر گنجائش رکھنے والا یہ جہاز قطر کی راس لفان بندرگاہ سے روانہ ہوا اور 12 مئی کو پاکستان پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ ایران اسرائیل کشیدگی کے آغاز کے بعد دوسرا موقع ہے جب قطری ایل این جی بردار جہاز محفوظ انداز میں آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس سے قبل “الخرائطیات” نامی ٹینکر بھی ایرانی منظوری کے بعد شمالی بحری راستے سے گزرتے ہوئے بحفاظت پاکستان کے لیے روانہ ہوا تھا۔

سفارتی اور توانائی ذرائع کے مطابق قطر سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی ایل این جی طویل المدتی حکومتی معاہدوں کے تحت سپلائی کی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان خطے میں ایران اور امریکا سمیت مختلف ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں بھی متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستان کے توانائی بحران اور دونوں ممالک کے سفارتی روابط کو مدنظر رکھتے ہوئے قطری ایل این جی جہازوں کو محدود تعداد میں محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اسی سلسلے میں اسلام آباد اور تہران کے درمیان مسلسل رابطے جاری رہے تاکہ بحری راستے میں کسی قسم کے خطرے سے بچا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق آئندہ چند روز میں مزید دو قطری ایل این جی ٹینکر بھی پاکستان کے لیے روانہ کیے جانے کا امکان ہے، کیونکہ ملک میں گیس کی طلب میں اضافے اور توانائی بحران کے باعث ایل این جی درآمدات انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔

دوسری جانب ADNOC کی جانب سے بھی حالیہ دنوں میں دو ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزارے گئے، تاہم حساس سیکیورٹی صورتحال کے باعث ان جہازوں کے ٹریکنگ سسٹمز بند رکھے گئے تھے، جس سے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور ممکنہ خطرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق قطر دنیا کا دوسرا بڑا ایل این جی برآمد کنندہ ملک ہے، تاہم ایران اسرائیل تنازع اور خلیجی پانیوں میں خطرات کے باعث قطر کی گیس برآمدات بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق قطر کی تقریباً 17 فیصد برآمدی صلاحیت تین سے پانچ سال تک دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل مالٹا کے دو بڑے خام تیل بردار جہاز “ایگیوس فانوریوس ون” اور “کیارا ایم” بھی آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔ دونوں جہاز عراق سے تقریباً 20،20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر روانہ ہوئے تھے اور دورانِ سفر سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنے ٹریکنگ سسٹمز بند رکھے گئے تھے۔

Comments are closed.