امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو ایک بار پھر صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو ایک بار پھر صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی

فوٹو : فائل

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو ایک بار پھر صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی سامنے آئی ہے جس میں سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی افواج نے امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا تو امریکا بھرپور جواب دے گا اور ایران کو “صفحہ ہستی سے مٹا دینے” کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے سے کہیں زیادہ جدید فوجی طاقت رکھتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں “پروجیکٹ فریڈم” کے تحت کارروائیوں کے دوران ایرانی فورسز نے متعدد جہازوں پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں امریکی بحریہ نے ایران کی 7 فاسٹ بوٹس کو تباہ کر دیا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں جنوبی کوریا سے منسلک ایک کارگو جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم دیگر جہاز محفوظ رہے اور کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایسے ممالک کو نشانہ بنایا جو اس تنازعے کا حصہ نہیں ہیں، اور جنوبی کوریا سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی اس مشن میں شامل ہو۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو اسے سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈلی کوپر نے بھی تصدیق کی تھی کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایران کی 6 چھوٹی کشتیوں کو تباہ کیا ہے، جس سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

https://

امریکی حکام کے مطابق “پروجیکٹ فریڈم” ایک سکیورٹی اقدام ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس مشن میں گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، بحری اور فضائی طیارے، ڈرون سسٹمز اور ہزاروں فوجی اہلکار شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے دنیا بھر میں موجود فوجی اڈے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران مذاکرات میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ لچک دکھا رہا ہے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک جنوبی کوریائی جہاز پر دھماکہ اور آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اس صورتحال پر مزید تفصیلات دینے کے لیے پریس کانفرنس کریں گے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے حساس ترین خطہ بن چکا ہے

Comments are closed.