پاکستان امریکہ اورایران کے مذاکرات کی میزبانی کیلئے ہروقت تیار ہے، اعلیٰ عہدیدار
فوٹو : فائل
اسلام آباد: پاکستان امریکہ اورایران کے مذاکرات کی میزبانی کیلئے ہروقت تیار ہے، اعلیٰ عہدیدار نےقطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے بات کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے اپنے پختہ ارادے کا اظہار کیا ہے۔
اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان اس وقت تک مذاکرات کے مختلف ادوار کی میزبانی کرے گا جب تک خطے میں مکمل امن قائم نہیں ہو جاتا، تمام فریقین کے درمیان سفارتی رابطوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے تاکہ کسی بھی طرح جنگ کو ختم کیا جاسکے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک قطر اور سعودی عرب نے بھی اس نازک جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، قطر کے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ کیا.
دونوں رہنماؤں نے خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
دونوں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے کشیدگی کو کم کیا جائے تاکہ مذاکرات کے ذریعے بحران کی جڑوں کو ختم کر کے ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
دوحہ انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے پروفیسر محمد المصری کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی اس جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں مگر وہ ایسا راستہ تلاش کر رہے ہیں جہاں ان کی عزتِ نفس پر حرف نہ آئے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ جنگ دونوں فریقین اور پوری دنیا کے لیے بہت مہنگی ثابت ہوئی ہے، میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ جنگ کے آغاز کے مقابلے میں ایران اس وقت زیادہ بہتر پوزیشن میں ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دشمنی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
پروفیسر محمد المصری نے امریکی صدر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اس جنگ سے نکلنے کے لیے ایک باعزت راستے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ جنگ ان کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ اور ملک کے لیے معاشی طور پر تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اصل مشکل یہ ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی جنگ سے اس طرح نکلنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی فتح کا دعویٰ بھی کر سکیں، اور یہی وہ نکتہ ہے جو مذاکرات کو مشکل بنا رہا ہے۔
Comments are closed.