پوپ لیو کا جنگ مخالف بیان، ایسا پوپ نہیں چاہئیے، ٹرمپ، ایران کا اظہارِ تشکر
فوٹو : اے آئی
اسلام آباد: پوپ لیو کا جنگ مخالف بیان، ایسا پوپ نہیں چاہئیے، ٹرمپ، ایران کا اظہارِ تشکر سامنے آیا ہے ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو خراج تحسین پیش کیا.
باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پوپ لیو کی جانب سے بے خوفی سے اپنے موقف پر قائم رہنے کے عمل کی تکریم کرتے ہیں، پاپ لیو آپ کا شکریہ آپ نے روشنی دکھائی۔
جنگ بندی معاملے پر ایران کے چیف مذاکرات کار نے کہا کہ پوپ کی جانب سے ادا کیے گئے یہ الفاظ کہ مجھے خوف نہیں، اسرائیل اور امریکا کے جنگی جرائم کی مذمت کے ساتھ یہ الفاظ گونج رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پوپ لیو کا ’مجھے خوف نہیں‘ کہنا ایسا نعرہ ہے جو اس راستے کو روشن کرتا ہے جو بے گناہوں کے قتل عام پر خاموش رہنے سے انکار کرنیوالوں کا رستہ ہے۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ پوپ کی قیادت کروڑوں افراد کو متاثر کرتی ہے، یہ روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں۔
جنگ کیخلاف کھُل کر بولتا رہوں گا، یہ میرا مذہبی فریضہ ہے، پوپ لیو
کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنقید کے باوجود جنگ کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔
پوپ لیو کا کہنا ہے کہ میں کسی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا، تاہم جنگ کے خلاف کھل کر بولتا رہوں گا۔انہوں نے کہا کہ مسائل کے منصفانہ حل کے لیے امن، مکالمے اور ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ دینا ضروری ہے۔
کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگ تکلیف میں ہیں اور بے گناہ افراد مارے جا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کوئی کھڑا ہو کر یہ کہے کہ مسائل کا بہتر حل بھی ممکن ہے۔
پوپ لیو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر امن کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا۔
پوپ لیو کے بیان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردعمل سامنے ہے اور اُنہوں نے لکھا ہے کہ پوپ لیو جرم کے معاملے میں کمزور اور خارجہ پالیسی کے معاملے میں خوفناک ہیں۔
امریکی صدر نے لکھا ہے کہ مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو یہ سمجھتا ہو کہ ایران کا جوہری ہتھیار رکھنا ٹھیک ہے یا جو امریکا کے وینزویلا پر حملہ کرنے کو خوفناک عمل سمجھے۔
میں پوپ لیو کا مداح نہیں ہوں، ایسا پوپ نہیں چاہئیے
بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں پوپ لیو کا مداح نہیں ہوں، ایسا پوپ نہیں چاہئیے جو پالیسیوں سے اختلاف رکھتا ہو۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پوپ لیو نے کہا اب جنگ نہیں مذاکرات کا وقت ہے۔ یسوع امن کے بادشاہ، جنگ کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا،ʼہمیں خوف نہیںʼ پوپ لیو کا ٹرمپ دباؤ مسترد کرتے ہوئے انجیل کے پیغام پر قائم رہنے کا اعلان۔
ٹرمپ نے کہا پوپ کے بیانات غلط پیغام دیتے ہیں، میں وائٹ ہاؤس میں نہ ہوتا تو لیو ویٹیکن میں نہ ہوتے۔
پوپ لیو نے کہا تھااب امن کا وقت ہے! مذاکرات اور ثالثی کی میز پر بیٹھیں، نہ کہ اس میز پر جہاں دوبارہ اسلحہ سازی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، انھوں نے ٹرمپ اور ہیگستھ کے جنگی پالیسیوں کے حق میں مذہبی حوالے دئیے، جن سے پوپ لیو نے اتفاق نہیں کیا۔
ایران جنگ نے عالمی سطح پر ایک غیر معمولی مذہبی و سیاسی تصادم کو جنم دیا ہے جس میں دنیا کی سپر پاور کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ویٹیکن کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہار دہم آمنے سامنے آ گئے ہیں، جہاں طاقت اور اخلاقیات کے بیانیے ٹکرا گئے ہیں۔
پوپ لیو انجیل کے پیغام کی روشنی میں جنگ کے بجائے امن، مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیتے ہوئے ’ہمیں خوف نہیں‘ کے مؤقف پر قائم ہیں، جبکہ دوسری طرف صدر ٹرمپ نے ان کے بیانات کو خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
سی این این، بی بی سی, رایٹرز،ویٹیکن اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پوپ لیو چہار دہم نے ایران جنگ اور اس پر امریکی صدر ٹرمپ کی تنقید کے بعد پیدا ہونے والے شدید سیاسی ردعمل پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی دباؤ یا خوف کے بغیر اپنے مذہبی اور اخلاقی مؤقف پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ انجیل کے پیغام کو کھل کر بیان کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ان کا مذہبی فریضہ ہے اور چرچ کی بنیادی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ وہ امن، انصاف اور انسانی وقار کے حق میں آواز بلند کرے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پوپ لیو نے افریقی براعظم کے 10 روزہ دورے کے آغاز پر طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چرچ کا کام سیاست یا خارجہ پالیسی کی طرح طاقت کے توازن کو دیکھنا نہیں بلکہ اخلاقی اصولوں اور انجیل کی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ خود کو ایک امن قائم کرنے والے کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان کا مؤقف کسی ریاستی مفاد کے تابع نہیں ہو سکتا۔ پوپ کے بیان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ “ہم سیاستدان نہیں ہیں، ہم خارجہ پالیسی کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جس طرح وہ دیکھتے ہیں.
سی این این کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایسے پوپ کو پسند نہیں کرتے جو ایٹمی ہتھیاروں یا جنگی پالیسیوں پر ان کے مؤقف سے اختلاف کرے اور انہوں نے پوپ لیو کو خارجہ امور کی سمجھ سے عاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی قومی سلامتی کے حساس معاملات کو درست طور پر نہیں سمجھتے۔
رپورٹ میں ٹرمپ کے حوالے سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پوپ لیو کے مداح نہیں ہیں اور ان کے مطابق پوپ کے بیانات عالمی سطح پر غلط پیغام دیتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ ایران تنازع انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
پوپ لیو، جو پہلے امریکی نژاد پوپ ہیں، حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں پر زیادہ کھل کر تنقید کر رہے ہیں اور انہوں نے عالمی برادری سے بارہا اپیل کی ہے کہ تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے انہوں نے امریکی بیانات اور ایرانی عوام کے خلاف دھمکیوں کو سخت الفاظ میں “ناقابل قبول” قرار دیا، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ ویٹیکن اب اس تنازع میں زیادہ واضح اخلاقی مؤقف اپنا رہا ہے۔
ویٹیکن ذرائع کے مطابق پوپ لیو نے پام سنڈے کے موقع پر کہا کہ یسوع امن کے بادشاہ ہیں اور انہیں جنگ کے جواز کے طور پر استعمال کرنا غلط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذہبی تعلیمات کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ ایمان کی اصل روح کے بھی خلاف ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر بھی پوپ کے خلاف سخت پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے پوپ کو کمزور اور غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیالات امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ ہیں، خصوصاً ایران اور وینزویلا جیسے معاملات کے حوالے سے موقف کی مخالفت کی۔
Comments are closed.