ایران نے جنگ بندی تجویزمسترد کردی،عارضی فیصلے پرآبنائے ہرمز کھولنے سے انکار

ایران نے جنگ بندی تجویزمسترد کردی،عارضی فیصلے پرآبنائے ہرمز کھولنے سے انکار

فوٹو : فائل

اسلام آباد: ایران نے جنگ بندی تجویزمسترد کردی،عارضی فیصلے پرآبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کردیا ہے، اس حوالے سے نجی ٹی وی آج نیوز کی ویب سائٹ نےالجزیرہ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان کی طرف سے دی جانے والی امریکا کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عرب نشریاتی ادارے Al Jazeera کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ Iran نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ محض عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق، تہران کو United States کی نیت پر اعتماد نہیں اور اسے خدشہ ہے کہ واشنگٹن مستقل جنگ بندی کے لیے سنجیدہ رویہ نہیں رکھتا۔

اسی تناظر میں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عارضی معاہدے کے بدلے اہم بحری گزرگاہ کو کھولنا ان کے اسٹریٹجک مفادات کے خلاف ہوگا، اس لیے وہ کسی بھی ایسے دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔ تہران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ کسی مقررہ ڈیڈ لائن کے تحت فیصلے پر مجبور نہیں ہوگا۔

پاکستان کی سفارتی کوششیں، ایران-امریکا سیزفائر کےلئے “اسلام آباد اکارڈ” دونوں ممالک کوپیش

قبل ازیں رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ Pakistan کی جانب سے فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک تجویز پیش کی گئی تھی، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور خطے میں استحکام پیدا کرنا تھا۔ اس تجویز کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اسے مرحلہ وار حکمت عملی کے تحت نافذ کیا جا سکتا ہے، جس میں فوری جنگ بندی کے بعد ایک جامع معاہدہ شامل ہوگا۔

مزید یہ کہ بعض ذرائع کے مطابق Asim Munir نے مختلف عالمی رہنماؤں اور حکام کے ساتھ رابطے رکھے تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ان رابطوں میں JD Vance، Steve Witkoff اور ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi شامل تھے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ابتدائی فریم ورک کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شکل دی جا سکتی ہے، جس کے تحت فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس حوالے سے کسی بھی مجوزہ فریم ورک کی نہ تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی ہے، اور اسے حساس سفارتی معاملہ قرار دیا ہے۔

عالمی ذرائع کے مطابق امریکا، ایران اور دیگر علاقائی ثالثوں کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور طویل المدتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی جیسے نکات بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔

Comments are closed.