ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کی انٹیلی جنس کےچیف ماجد خادمی کےشہیدہونے کی تصدیق

ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کی انٹیلی جنس کےچیف ماجد خادمی کےشہیدہونے کی تصدیق

فوٹو : فائل

تہران: ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کی انٹیلی جنس کےچیف ماجد خادمی کےشہیدہونے کی تصدیق کردی گئی ہے اورایران

ایران کے طاقتور فوجی ادارے پاسداران انقلاب (IRGC) نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اس کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی شہید ہو گئے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے جاری بیان کے مطابق ماجد خادمی کو پیر کی صبح ایک حساس مقام پر نشانہ بنایا گیا، جہاں وہ مبینہ طور پر ایک اہم سیکیورٹی اجلاس میں شریک تھے۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ امریکی اور اسرائیلی فورسز کے اشتراک سے کیا گیا، تاہم امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر اس کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

ماجد خادمی کو گزشتہ برس جون میں پاسداران انقلاب کا انٹیلی جنس چیف مقرر کیا گیا تھا، جب ان کے پیشرو محمد کاظمی ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔ خادمی کو ایران کی داخلی سلامتی اور بیرونی انٹیلی جنس آپریشنز میں اہم کردار کا حامل سمجھا جاتا تھا۔

ایرانی حکام کے مطابق خادمی نے حالیہ مہینوں میں ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کے کردار کا الزام عائد کیا تھا اور سخت کارروائیوں کی نگرانی بھی کر رہے تھے۔

ایرانی حکومت اور فوجی قیادت نے اس واقعے کو "کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کا "مناسب اور بروقت جواب” دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے کے بعد مشرق وسطیٰ میں پہلے سے جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعلقات انتہائی تناؤ کا شکار ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی ایرانی عسکری شخصیت کی ہلاکت نہ صرف ایران کے انٹیلی جنس ڈھانچے کے لیے بڑا دھچکا ہے بلکہ یہ خطے میں ممکنہ وسیع تر تصادم کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔

Comments are closed.