معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو واپس پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا، ٹرمپ
فوٹو : سوشل میڈیا
واشنگٹن: امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس سے قوم سے 19 منٹ کے خطاب میں امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ کو "بڑی کامیابی” قرار دیا، تاہم انہوں نے اس تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن پیش نہیں کی۔ایران کو 2 سے 3 ہفتوں میں "سخت جواب” دینے کی دھمکی اور کہا کہ معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو واپس پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا، ٹرمپ کا قوم سے خطاب.
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں کے دوران ایران کو "انتہائی سخت جواب” دے گا۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا اور اسے "پتھر کے دور” میں واپس دھکیل دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت جاری ہے، تاہم ایران کی جانب سے اس کی تردید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے مطابق بھی اس وقت ایران کسی بڑی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ تہران اپنی پوزیشن کو پہلے سے زیادہ مضبوط سمجھ رہا ہے۔
معاشی اثرات نظر انداز، تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ
خطاب کے دوران صدر نے فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا، لیکن جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات پر تفصیل سے بات نہیں کی۔ ان کے خطاب کے آغاز پر تیل کی قیمتیں کم تھیں، تاہم اختتام تک عالمی بینچ مارک میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پھیل گئی۔
ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ میں شدت آئی تو امریکہ کو معاشی سست روی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، حتیٰ کہ کساد بازاری کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
مذاکرات کا دعویٰ، ایران نے براہ راست بات چیت کی تردید کر دی
صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایک دوہرا پیغام دیا، ایک طرف فوجی کارروائیوں میں شدت کا عندیہ دیا تو دوسری جانب چند ہفتوں میں ممکنہ انخلاء کا ذکر بھی کیا، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی پیش نہیں کی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران کے جوہری مقامات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کے بقول ان تنصیبات کو مکمل طور پر بحال ہونے میں مہینوں لگیں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر کے اختتام پر کوئی نیا اعلان نہیں کیا اور زیادہ تر وہی مؤقف دہرایا جو وہ گزشتہ چند ہفتوں سے پیش کرتے آ رہے ہیں، جس سے ان کے اتحادیوں اور سرمایہ کاروں میں مایوسی پائی جا رہی ہے جو جنگ کے خاتمے کے واضح لائحہ عمل کے منتظر تھے۔
Comments are closed.