امریکہ کامتحدہ امارات کو جنگ میں دھکیلنےکے بعد اسے7 ارب ڈالرکااسلحہ بیچے گا
فوٹو : فائل
اسلام آباد : امریکہ کامتحدہ امارات کو جنگ میں دھکیلنےکے بعد اسے7 ارب ڈالرکااسلحہ بیچے گا، خطے میں دفاعی صلاحیت میں استحکام کے نام پرجدید ہتھیاریوای اے کو فروخت کرنےکی منظوری دے دی گئی۔
اس حوالے سے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے متحدہ عرب امارات کے لیے تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں ان ہتھیاروں کے بارے میں کہا گیاہے امریکی قوانین کے تحت عوامی سطح پر اس کااعلان کرناضروری نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ منظوری اُن اسلحہ معاہدوں کے علاوہ ہے جن کی مجموعی مالیت 16.5 ارب ڈالر سے زائد ہے اور جن میں مشرق وسطیٰ کے تین ممالک شامل ہیں
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ غیر اعلانیہ معاہدوں میں متحدہ عرب امارات کو تقریباً 5.6 ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ میزائلز اور تقریباً 1.32 ارب ڈالر کے ہیلی کاپٹرز کی فروخت شامل ہے۔
امریکا اپنی خارجہ پالیسی کا کنٹرول کھو چکا ہے،اسرائیل نے ٹرمپ کو جنگ میں پھنسا دیا
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان معاہدوں کا باقاعدہ اعلان اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ یہ پہلے سے طے شدہ اسلحہ سودوں کی توسیع ہیں، جنہیں امریکی قوانین کے تحت عوامی سطح پر ظاہر کرنا لازم نہیں ہوتا۔
امریکہ پہلے ہی 3 خلیجی ملکوں کو 16.5 ارب ڈالرکے ہتھیارفروخت کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تھا۔
واضح رہے خلیجی ممالک میں امریکہ کے اڈے ان ملکوں کی سکیورٹی کےلئے قائم کئے گئے تھے لیکن ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ ان ممالک کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا بلکہ ان اڈوں کی وجہ سے سعودی عرب، قطر،بحرین، کویت سمیت دیگرممالک ایران کی جوابی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
امریکہ نے معاہدے کے تحت ان کی سکیورٹی ممکن بنانے کی بجائے اس بہانےاپنااسلحہ فروخت کرنا شروع کردیا ہے اورجنگ کے باعث خلیجی ممالک دباو کا شکار ہونے کی وجہ سے امریکہ سے معاہدہ کی خلاف ورزیوں پہ احتجاج بھی نہیں کرپارہے۔
Comments are closed.