ایرانی صدر کی معذرت اور یقین دہانی کے باوجود خلیجی ممالک پر حملوں کاسلسلہ جاری

ایرانی صدر کی معذرت اور یقین دہانی کے باوجود خلیجی ممالک پر حملوں کاسلسلہ جاری

فوٹو : فائل

اسلام آباد : ایرانی صدر کی معذرت اور یقین دہانی کے باوجود خلیجی ممالک پر حملوں کاسلسلہ جاری ہےمشرق وسطیٰ میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے خلیجی ممالک سے معذرت اور کشیدگی کم کرنے کے بیان کے باوجود خطے کے کئی ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں کے الرٹس نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر نےہفتہ کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرے گا جب تک اس کی سرزمین یا مفادات پر حملہ نہ کیا جائے۔ تاہم اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں فضائی دفاعی سسٹم متحرک ہوگئے اور کئی مقامات پر سائرن بجنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

عرب نیوز کے مطابق اس صورتحال نے پورے خلیجی خطے میں بے یقینی کی فضا پیدا کردی ہے جبکہ ایران سے متعلق کشیدگی اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور خطے کے ممالک ہائی الرٹ پر ہیں۔

سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ایک بیلسٹک میزائل جو پرنس سلطان ایئربیس کی جانب داغا گیا تھا، اسے فضائی دفاعی نظام نے روکنے کی کوشش کی جس کے بعد وہ کم آبادی والے علاقے میں گر گیا۔ حکام کے مطابق واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے حکام نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایک ممکنہ حملہ ناکام بنایا تاہم اس کا ملبہ دبئی مرینہ کے ایک رہائشی ٹاور پر گرنے سے معمولی نقصان ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کو جزوی نقصان پہنچا لیکن کوئی شہری زخمی نہیں ہوا اور صورتحال جلد قابو میں کر لی گئی۔

متحدہ عرب امارات ، بحرین اور سعودی عرب میں حملے کئے جارہے ہیں

اسی طرح بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق ایک میزائل یا ڈرون حملے کے نتیجے میں دارالحکومت منامہ میں آگ بھڑک اٹھی جس سے ایک گھر اور چند قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔

خطے کے دفاعی حکام کے مطابق کئی میزائل اور ڈرون فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے جبکہ مختلف شہروں میں حفاظتی الرٹس جاری کیے گئے جس کے باعث شہریوں کی روزمرہ سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

ادھر بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے کہا ہے کہ مسلسل حملوں اور کشیدگی کے باوجود ان کا ملک امن اور استحکام کے راستے پر قائم ہے۔ بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ بحرین ایسے اقدامات اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو خطے اور دنیا میں سکیورٹی اور استحکام کو مضبوط بنائیں۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے اور تمام ممالک کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا مقصد خطے میں کشیدگی نہیں بلکہ متوازن اور دوستانہ تعلقات کا فروغ ہے۔

ایرانی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ ان کے بقول ایران کی فوجی کارروائیاں صرف اُن مقامات کو نشانہ بنا رہی ہیں جن کا تعلق ایران پر ہونے والے حملوں سے ہے، خصوصاً خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے نرم لہجے کے باوجود میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی مکمل طور پر کم نہیں ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ بحران مزید وسیع ہو کر پورے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کو متاثر کر سکتا ہے۔

Comments are closed.