دلیرانہ فیصلہ ،یونیورسٹیز میں اساتذہ و طالبات کی دفاتر میں ملاقات پر پابندی عائد
فوٹو : فائل
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت کا دلیرانہ فیصلہ ،یونیورسٹیز میں اساتذہ و طالبات کی دفاتر میں ملاقات پر پابندی عائد کردی گئی ہے، صوبائی محکمہ اعلیٰ تعلیم نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات میں طالبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے مرد اساتذہ کی طالبات سے انفرادی طور پر اپنے دفاتر میں ملاقات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اس حوالے سے خیبرپختونخوا میں باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا، تمام وائس چانسلرز اور متعلقہ حکام کو عمل درآمد کی ہدایت ،تمام جامعات کو پابندی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم کے مطابق یہ فیصلہ جامعات میں محفوظ، شفاف اور بااعتماد تعلیمی ماحول کے قیام کے لیے کیا گیا ہے تاکہ طالبات کو ہراسانی یا کسی بھی قسم کے دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ کسی بھی مرد استاد کو کسی طالبہ سے اپنے دفتر میں اکیلے ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی، بلکہ تمام ملاقاتیں طے شدہ ضابطہ کار کے تحت ہوں گی۔
خاتون فیکلٹی ممبر کی نامزدگی لازمی قرار
خط میں ہدایت کی گئی ہے کہ ہر ڈیپارٹمنٹ میں کم از کم ایک خاتون فیکلٹی ممبر کو نامزد کیا جائے جو طالبات کے مسائل، شکایات اور رہنمائی کے امور دیکھیں گی۔ یہ نامزد خاتون استاد طالبات اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کا کردار ادا کریں گی اور اگر کسی طالبہ کو کسی مرد استاد سے ملاقات درکار ہو تو وہ ملاقات خاتون فیکلٹی ممبر کی موجودگی یا علم میں ہوگی۔
محکمہ نے مزید ہدایت دی ہے کہ جامعات میں پہلے سے قائم اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیز کو فعال بنایا جائے اور ان کی کارکردگی کی باقاعدہ رپورٹ محکمہ اعلیٰ تعلیم کو ارسال کی جائے۔ اس اقدام کا مقصد ہراسگی سے تحفظ کے قانون پر مؤثر عمل درآمد اور شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانا ہے۔
جامعات میں ہر سہ ماہی آگاہی سیمینار کا انعقاد
مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری جامعات سال میں کم از کم ہر سہ ماہی (تین ماہ) میں ایک سیمینار یا آگاہی سیشن منعقد کریں جس میں طالبات کو "ہراسگی سے تحفظ ایکٹ 2010” اور متعلقہ قوانین کے بارے میں تفصیلی آگاہی دی جائے۔ ان سیمینارز میں قانونی ماہرین، سماجی کارکنان اور یونیورسٹی انتظامیہ کے نمائندگان شرکت کریں گے تاکہ طلبہ و طالبات کو ان کے حقوق اور شکایت درج کرانے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جا سکے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جامعات میں ہراسگی سے متعلق شکایات کی روک تھام کے لیے واضح پالیسی اور شفاف نظام نہایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق نئی ہدایات سے طالبات کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور والدین بھی اپنی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے میں زیادہ مطمئن ہوں گے۔
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق بعض جامعات میں پہلے بھی اس نوعیت کے ضابطہ اخلاق موجود تھے تاہم اب انہیں صوبائی سطح پر یکساں پالیسی کے طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ ادارے کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
طلبہ تنظیموں اور سماجی حلقوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام خواتین کے محفوظ تعلیمی ماحول کی جانب ایک مثبت قدم ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ساکھ اور تعلیمی عمل کی روانی کو بھی برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔ بعض حلقوں نے تجویز دی ہے کہ دفاتر میں سی سی ٹی وی کیمرے، اوپن ڈور پالیسی اور شفاف اپوائنٹمنٹ سسٹم کو بھی لازمی قرار دیا جائے تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد کسی خاص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ طالبات کو محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق جامعات میں صنفی مساوات، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور باہمی احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Comments are closed.